سخاکوٹ (مانند نیوز) سخاکوٹ کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سخاکوٹ میں سیکنڈ شفٹ شروع ہونے کے چند روز بعد اسکی بندش پر تشویش کااظہار کردیا۔سیکنڈ شفٹ کلاسز شروع کرنے سے طلباء کے داخلوں کامسئلہ ہوا تھا مگر اب اسکی بندش سے طلبا کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ سخاکوٹ سمیت تحصیل درگئی کے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے انہیں داخلوں میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ان خیالات کااظہار چیئرمین کونسلر اتحادسخاکوٹ کے صدر علی رحمان، جنرل سیکرٹری سعید اللہ، چیئرمین ساجد حسین مشوانی، چیئرمین سبزعلی، چیئرمین قاری سجادعلی حقانی اور چیئرمین فقیرمحمد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سخاکوٹ میں طلباء کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا تھا جس کی وجہ سے انہیں داخلوں میں شدید مشکلات درپیش تھے اور انکا مستقبل تاریک ہورہا تھاان طلباء کی مستقبل کو تاریک سے بچانے کیلئے سخاکوٹ کے ویلج چیئرمینوں نے سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کیلئے کوشش اور ٹھوس اقدامات کے مطالبات بھی کئے اور انہیں کوششوں اور مطالبات کے نتیجے میں حکومت نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سخاکوٹ میں سیکنڈ شفٹ شروع کی مگر افسوس کہ سیکنڈشفٹ کلاسزشروع کرنے کے چند دن بعد ہی بند کردی گئی جس سے طلباء اور انکے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلباء کے مشکلات کو مدنظر رکھ کر سیکنڈ شفٹ کلاسز شروع کی جائے بصورت دیگر طلباء کیساتھ احتجاج پر مجبور ہونگے۔