ملاکنڈ(نمائندہ مانند)الخدمت بنو قابل پروگرام کے ذریعے دو سالوں میں 20 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی اسکلز سکھائیں گے، عنایت اللہ خان۔
الخدمت فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا شمالی نے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کے ذریعے خودمختار اور باعزت روزگار کے قابل بنانے کے لیے ملاکنڈ ڈویژن میں الخدمت بنو قابل پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے پروگرام میں مزید کورسز کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔الخدمت بنو قابل پروگرام کے تحت پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں الخدمت بنو قابل فیز ٹو کے سلسلے میں تھانہ سپورٹس کمپلیکس، ضلع ملاکنڈ میں صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ٹیسٹ میں بیک وقت 35 ہزار طلبہ و طالبات نے الگ الگ پنڈالز میں شرکت کی جن میں 10 ہزار سے زائد طالبات شامل تھیں۔اس موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمانِ خصوصی الخدمت بنو قابل پروگرام کے بانی و مرکزی سرپرستِ اعلیٰ انجینئر حافظ نعیم الرحمن تھے۔ تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ڈائریکٹر میڈیا عمیر ادریس، سابق سینئر صوبائی وزیر و امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، صوبائی جنرل سیکرٹری محمد حلیم باچا، الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر فضل محمود، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر خالد فاروق، جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر سید بختیار معانی اور ضلعی امیر شہاب حسین سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، ماہرینِ تعلیم، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، صحافیوں، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔انٹری ٹیسٹ میں ملاکنڈ ڈویژن کے تین اضلاع اپر دیر، لوئر دیر اور ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے توقع سے زیادہ تعداد میں شرکت کی، جس پر منتظمین نے انٹری ٹیسٹ کو دو مرحلوں میں منعقد کیا۔ اس موقع پر تقریب سے امیر جماعت اسلامی پاکستان اور الخدمت بنو قابل پروگرام کے بانی انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعلان کیا تھا کہ اگلے دو سالوں کے دوران الخدمت بنو قابل پروگرام کے تحت ملک بھر میں 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کرائیں گے، لیکن نوجوانوں کی غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اب یہ تعداد 10 لاکھ نہیں رہے گی بلکہ 20 لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ طلبہ و طالبات جو بہترین کارکردگی دکھائیں گے، الخدمت فاؤنڈیشن انہیں ڈگری پروگرام میں بھی بھرپور معاونت فراہم کرے گی، جبکہ پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے لیے بیرونِ ملک آئی ٹی سے متعلق اسکالرشپس بھی فراہم کیے جائیں گے۔جب آپ بیرونِ ملک جائیں گے، تعلیم حاصل کریں گے، اور آئی ٹی میں اعلیٰ مہارت حاصل کر کے وطن واپس آ کر باعزت روزگار اپنائیں گے، تو یہ تاثر بھی ختم ہو جائے گا کہ ہمارا نوجوان صرف ملک سے باہر جانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں ہمارے پاس نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے کہ اگر انہیں مناسب رہنمائی اور سپورٹ مل جائے تو وہ اگلے پانچ سے دس سالوں کے دوران صرف آئی ٹی کے ذریعے اتنی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں کہ ملک کے تمام بیرونی قرضے ختم ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس صرف ساڑھے تین بلین ڈالر ہیں، حالانکہ اگر حکومت مناسب توجہ دے تو یہ ایکسپورٹس آسانی سے 15 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ روزِ اول سے ملک میں طبقاتی نظامِ تعلیم قوم پر مسلط کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم ترقی کی دوڑ میں اقوامِ عالم سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں داخل کروانا پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارے معاشرے کا 65 فیصد سے زائد حصہ ہیں، حکومت کو ان پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے پر فوکس کیا جائے۔نئے وزیراعلیٰ صاحب یونیورسٹیوں کی زمینیں بیچنے کے بجائے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کریں، اسکولوں سے باہر بچوں کو اسکولوں میں لانے اور صوبے بھر میں بند یا خستہ حال اسکولوں کو فعال بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری طبقاتی نظامِ تعلیم کے بجائے حکومت ایک نصاب، ایک نظام، ایک زبان کے تحت تعلیمی نظام رائج کرے تو اس سے تعلیم اور ملک دونوں کے نظام درست ہو سکتے ہیں

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے