نیویارک(مانند نیوز)پاکستان نے روس، یوکرین تنازعہ کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے قونصلر کامران تاج نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے15 رکنی یوکرین سے متعلق آریا فارمولا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کامران تاج نے کہا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی متعلقہ ذمہ داریوں کی پابندی کرنی چاہئے۔پاکستان کے مشن قونصلر نے بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی قیدیوں کو حاصل تحفظات کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے ناروا سلوک کی مذمت کی، انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکیہ کی معاونت سے جنگی قیدیوں کا باقاعدہ تبادلہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔کامران تاج نے تنازع میں غیر ملکی جنگجوں کی شمولیت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کے خاتمے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی جنگجوں کا مسئلہ عالمی برادری کے لئے طویل عرصے سے باعث تشویش ہے اور حالیہ عرصے میں اس رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کیلئے مکالمے اور سفارت کاری کو بنیادی اہمیت دینے کے اپنے غیر متزلزل موقف پر قائم رہا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔کامران تاج نے روس، یوکرین تنازع کو جلد ختم کرنے اور اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ منصفانہ اور پائیدار تصفیے کی ضرورت پر زور دیا، ایسا حل جو تمام فریقین کے جائز سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل قبول ہو۔ آریا فارمولا اجلاس ایک غیر رسمی طریقہ کار ہے جس کے تحت سلامتی کونسل کے ارکان اہم عالمی امور پر کھل کر تبادلہ خیال کرتے ہیں، یوکرین سے متعلق اجلاس کا انعقاد لٹویا، یوکرین اور برطانیہ نے کیا، جس میں جنگی قیدیوں، زیرحراست شہریوں اور غیر ملکی جنگجوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔