لوئیر دیر( مانند نیوز) جرگہ کی کوششیں کا میاب ستاندارکے آراضیات کا 50 سالہ دیرینہ تنازعہ افہام وفہیم کے زریعے حل ہونے پرتصادم کا خطرہ ٹل گیا ملکانان غاڑہ اور گاوں ستاندار کے عوام متنازعہ آراضیات کی تقسیم پر متفق ہونے سے اہلیان علاقہ میں خوشی کی لہردوڑ گئی ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریوینواور جرگہ ممبران، ملکانان غاڑہ اورعمائدین ستاندار کی موجودگی میں متنازعہ آراضیات کی تقسیم کی جا ئیگی آراضیات کا تنازعہ حل میں بڑی پیش رفت پر علاقے کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تفصیلات کے مطابق 1972 ستاندار کے آراضیات کا مقدمہ سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں چلتا رہا جس میں اب تک کئی افراد جان بحق اور زخمی ہوگئے تھے گزشتہ دنوں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر مذکورہ آرضیات کی ڈیمارکیشن اور تقسیم پر اہلیان شاٹئی درہ اور ستاندار کی جانب سے مذاحمت پر حالات کشیدہ صورت اختیار کرنے پر دیر قومی جرگہ کے عمائدین سابق ایم این اے صاحب زادہ محمد یعقوب خان، ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے سابق صدرجہان بہادر ایڈوکیٹ، حاجی بخت سردار نے حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مصالت کا کر دا رادا کرتے ہوئے فریقین ملکانان غاڑہ اور اہلیان ستاندارکے ساتھ ملا قاتیں کئے اور انہیں ستاندار کے متنازعہ آراضیات کی تقسیم پر راضی کر لئے اس حوالے جمعہ کے روز گاوں خیمہ میں ملک فاروق اقبال یوسف زئی کے رہائش گاہ پر ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالولی خان، تیمرگرہ اور بلامبٹ کے تحصیل داران، محکمہ ریو نیو کے اہلکاران،سابق ایم این اے اور قومی جرگہ کے صدر صاحبزادہ محمد یعقوب خان، ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے سابق صدر جہان بہادر ایڈوکیٹ، سابق ضلعی ناظم حاجی محمد رسول خان، حاجی بخت سردار، سابق ایم پی اے ملک بہرام خان، سابق ایم پی اے حاجی سعید گل، اقبال الرحمان ایڈوکیٹ، شاہ فیصل ایڈوکیٹ، ملک فاروق اقبال یوسف زئی ، انجمن تاجران تیمرگرہ کے صدر حاجی انوار الدین، حاجی حسین اللہ، انجنئیر یعقوب الرحمن سمیت ملکانا ن غاڑہ اور گاوں ستا ندار کے عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر اے ڈی سی عبدالولی خان صدر قومی جرگہ صاحب زادہ محمد یعقوب خان، ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے سابق صدر جہان بہادر ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاٹئی درہ آراضیات کا تنازعہ گزشتہ پچاس سالوں سے حل طلب تھا جس سے علاقے امن متاثراور خو ن ریزی کا خدشہ تھا تاہم جرگہ کی مخلصانہ کوششوں اور فریقین کی جانب سے لچک دیکھانے اور گاوں ستا ندار کے عوام کی جانب سے دور اندیشی کا مظا ہرہ کرنے سے ستاندار کے متنازعہ آراضیات کی تقسیم پر فریقین متفق ہوگئے جس سے یہ تنازعہ حل ہونے کے اخری مراحل میں داخل ہو گیا انھوں نے توقع ظاہر کی دوسرے فریق اہلیان شاٹئی درہ کے ساتھ بھی مذاکرات جا ری ہے اور امید ہے کہ وہ بھی جرگہ کی بات مان کر شاٹئی درہ کے آراضیات کا تنازعہ بھی پرآمن طور پر حل ہو جا ئیگا انھوں نے کہا کہ لڑائی جھگڑے مسا ئل کا حل نہیں اس دیرینہ اور اہم مسئلہ کے حل سے عوام سکون سے زندگی بسر کرینگے اواعلاقے میں امن، ترقی اور خوشحالی ائیگی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالولی خان کا کہنا تھا کہ لوئر دیر میں آراضیات کی 6 بڑے بڑے تنازعات اور کیسز میں سپریم کو رٹ کے احکامات پر ہرصورت عمل درآمد یقینی بنا جائیگا شاٹئی درہ کا تنازعہ ان کے لئے ٹیسٹ کیس تھا اس سے قبل کہ ضلعی انتظامیہ فورس کے زریعے ان سے آراضیات واگزار کرائے فریقین افہام وفہیم سے کام لیکر انتظامیہ سے تعاون کریں ستاندار آراضی تنازعہ حل کرنے میں فریقین نے جرگہ کی کوششوں کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔