پشاور(مانند نیوز)ناظم اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ خیبرپختونخوا وسیم حیدر نے کہا کہ سابقہ تبدیلی سرکار اور پی ڈی ایم حکومتوں کیباوجود جامعات مالی بحران کاشکار ہیں۔جس کا خمیازہ طلبہ کو بھاری فیسوں کی صورت میں بھگتنا پڑتاہے۔طلبہ یونین کو بحال کیا جائے۔اعلی تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے پاکستان کا جی ڈی پی پڑوس ملک افغانستان کی اعلی تعلیم کے لیے مختص کردہ جی ڈی پی سے بھی کم ہے۔ملک کا 60%حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہیں۔مگر تبدیلی سرکار اورپی ڈی ایم کو ان کی مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔خیبرپختونخوا کے اکثر نوجوان بے روزگاری کیوجہ سے ملک چھوڑنے پرمجبور ہیں۔ملک کی اشرافیہ طبقہ نے قوم کے بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ تعلیمی بجٹ کے لیے جی ڈی پی کا کم ازکم 5فیصد حصہ مختص کیا جائے۔صوبے میں لوئرسطح پر 47لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ان بچوں کی تعلیم وپرورش کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چکدرہ میں” حقوق طلبہ ریلی اور بعدازاں حقوق ملاکنڈ جلسہ عام” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ناظم صوبہ وسیم حیدر نے کہاکہ جامعات میں انتظامیہ کی سرپرستی میں اساتذہ اور طلبہ میں نشہ عام لہے۔نوجوانوں کا مستقبل تباہ وبردباکیاجارہاہے۔جامعات منشیات ڈیلروں کی اڈے بن چکے ہیں۔اسی وجہ سے آئے روز تعلیمی اداروں میں شرمناک واقعات ہورہے ہیں۔جامعہ اسلامیہ بہاولپور واقعہ کی ملوث زمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچاناہوگا۔جامعات میں منشیات کی سمگلنگ اور ہرائسمنٹ میں اشرافیہ طبقہ ملوث ہے۔طلبہ یونین کو بحال کیا جائے۔تاکہ تعلیمی اداروں کی اندر اشرافیہ اور ڈرگ مافیہ کی کالے کرتوتوں اور دھندوں کاخاتمہ ہوجائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے