اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے، توشہ خانہ کے تحائف لئے گئے اور فروخت کئے گئے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ایک نامی گرامی مجرم جس پر ملک سے غداری کا کیس ہے، ملزم توشہ خانہ کی چوری اور 9 مئی کے واقعات میں بھی ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ کبھی ایک بہانا تو کبھی دوسرا بہانا بناتا ہے، 40 میں سے 3 پیشیوں پر ملزم کی حاضری لگی ہے، جوئے کا پیسہ کہیں اور لگا دیا۔عطااللہ تارڑ نے کہا کہ توشہ خانہ کے 35 سوالات پوچھے گئے تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا، ملزم کے وکیل علی ظفر نے الیکشن کمیشن میں مانا کہ تحائف بیچے گئے۔انہوں نے کہا کہ باقاعدہ بڑھکیں ماریں کہ میں نہیں میرے ملٹری سیکریٹری وسیم چیمہ بیچتے تھے، نہ ملزم ہے نہ ان کے وکیل ہیں اور نہ عدالت میں گواہان کی فہرست دی گئی۔انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس11:30 اور یہاں 9:30 لیکن، کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا، احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ عدالت بھی انتظار کر رہی ہے لیکن کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔انہوںنے کہا کہ الیکشن میں کسی بھی الائنس سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔