سوات(مانند نیوز) تھانہ مینگورہ پولیس کو بنگلہ دیش لنڈیکس میں ایک عورت مسماۃ (ص) کی خودکشی کرنے کی اطلاع ملی تھی جس پر تھانہ مینگورہ پولیس نے فوراً جائے وقعہ پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کیا چونکہ اس کیس میں شک و شبہات تھی جس پر پر ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ناصر محمود ستی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات شفیع اللہ گنڈاپور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی سوات غلام صادق خان حقائق معلوم کرنے کا ٹاسک سونپا تھا جس پر ایڈیشنل ایس پی سوات غلام صادق نے حقائق منظر عام پر لانے کیلئے ڈی ایس پی سٹی امجد خان کے نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ مینگورہ مجیب عالم خان اور دیگر پولیس نفری پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے مقتولہ کی بھائی عبداللہ ولد شمشیر علی کو سر سری انٹاروگیٹ کرنا شروع کیا جس نے حقائق سے پردہ اٹھا کر پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ میری بہن مقتولہ کی 2 سال قبل طلاق ہوچکی تھی اور تب سے وہ ہماری ساتھ رہتی ہے لیکن طلاق کے بعد مقتولہ کا چال چلن درست نہیں تھا اور مختلف لوگوں سے بذریعہ فون رابطے کر رہی تھی، جس پر میری رشہ دار مجھے طعنے دیتے تھے اس لئے آج دل برداشتہ ہو کر اپنے گھر میں پڑے پستول نکال کر میں نے اپنے بہن پر قتل کرکے قتل کیا ہے، پولیس نے ملزم کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے پابند سلاسل کیا ہے، جس سے آلہ قتل پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ مذید تفتیش جاری ہے۔ترجمان سوات پولیس