شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے بیشتر پیٹرول پمپ پرکم گیج ایرانی پیٹرول فروخت ہونے کے ساتھ ساتھ ایجنسی پمپوں میں گیج کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا۔ ٹرانسپورٹرز اور پرائیویٹ گاڑی مالکان پریشان۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ جبکہ گیج میں کمی اور ایرانی پیٹرول کی فروخت پریشان کن ہے، عوامی حلقے۔ انتظامیہ صرف معمولی جرمانہ کرتی ہیں تو پمپ مالکان دوبارہ گیج کم کر دیتے ہیں سب سے زیادہ مسئلہ شانگلہ میں ایجنسی پمپوں کا ہے۔ ٹرانسپورٹر اور عوام پریشان ایک طرف اندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو شانگلہ جیسے دور افتادہ علاقوں میں پیٹرول پمپ جس میں بیشتر ایجنسی پمپ شامل ہیں جو ایرانی پٹرول فروخت کرتے ہیں تو دوسری طرف گیج میں بھی مسئلہ ہوتا ہے انتظامیہ جب عوامی اور ٹرانسپورٹرز کی شکایات پر کاروائی کرتی ہے تو صرف ہزاروں کا جرمانہ کرتی ہے اور پھر پمپ دوبارہ اپنی وہی من مانی شروع کر دیتے ہیں شانگلہ کے بیشتر ٹرانسپورزاور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شانگلہ میں ایجنسی پمپس سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ لوگ بھی بااثر ہے اس کے ساتھ سرکاری محکموں کے تیل کے ٹیکے بھی ہوتے ہیں جیسے ہی انتظامیہ ایسے پمپوں پر کاروائی کرتی ہے تو ادھے گھنٹے کے اندر اندر اس پر پانچ ہزار سے 10 ہزار تک جرمانہ کر کے پمپ دوبارہ کھول دیا جاتا ہیں اس کے لئے کوئی مستقل حل کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ ادوار میں جب پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تو وہاں دوسری جانب شانگلہ کے بیشتر ایجنسی پمپس بند رہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایجنسی پمپس براہ راست سرکاری کھاتے میں نہیں۔ عوامی حلقوں نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع انتظامیہ شانگلہ سے مطالبہ کیا ہے اندھن فروخت کرنے والی بڑی کمپنیوں کے براہ راست خط و کتابت کر کے مختلف علاقوں میں ان کمپنیوں کے پمپس کھولے جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور ایجنسی پمپس کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔۔