وانا (مانند نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی صوبائی رابطه سیکرٹری اشفاق وزیر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان لوئر تحصیل برمل کے جنگلات کی بیدریغ کٹائی جاری، پہاڑی علاقے میدانوں میں تبدیل، محکمہ جنگلات کے عملے کی ملی بھگت سے جنگلات کو ایک عام گھاس کی طرح کاٹا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں سے لکڑی ٹرالیوں، بڑی کیبن ڈاٹسن اور ٹراکوں پر لاد کر روزانہ ہرے بھرے درختوں کو کاٹ کر قریبی ٹال پر فروخت کر دی جاتی ہے۔ کئی لوگ لکڑی سے کوئلہ بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد لوگ لکڑی اور کوئلے کو قریبی ملک افغانستان لیا جا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے افسران، ضلعی انتظامیہ اور ذمہ دار افراد سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی صوبائی رابطه سیکرٹری اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو درحقیقت جنگلات کے”بے دریغ کٹاﺅ“ کو نہ روکا گیا، تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کی زندگیوں کو موت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین ماحولیاتی آلودگی سے بچاﺅکے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگانے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ ہم زیادہ سے زیادہ کاٹنے میں مگن ہیں۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے۔جہاں ”ماحولیاتی آلودگی“ نہایت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کا اہم سبب درختوں کی ”بے دریغ“ کٹائی ہے۔اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ 2011ء میں سروے کے مطابق پاکستان میں کل رقبے کے 5.1 فیصد علاقے پر جنگلات تھے، لیکن بدقسمتی سے اس وقت پاکستان سالانہ 42 ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں جنگلات مجموعی طور پر کل 16 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہیں جو مجموعی ملکی رقبے کا محض 2.2 فیصد بنتا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں جنگلات کی شرح میں کمی والے کل 143 ملکوں کی فہرست میں پاکستان 113 نمبر پر موجود ہے۔اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ محکمہ جنگلات کے ضلعی افسران، ضلعی انتظامیہ اور علاقے کی ذمہ دار بندے کو درختوں کی بیدریغ کٹائی کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس نے کوئی ایکشن نہیں لیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مابین گٹھ جوڑ ہے۔ اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے بہت سے ”موثر قوانین“موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی کمی ہے جس کی وجہ سے ٹمبر مافیا روز بروز طاقتور ہوتا جارہا ہے اور قانون کمزور۔اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ جنگلات کی لکڑی کی نقل و حمل کے”پرمٹوں“ پر پابندی عائد کی جائے اور قانونی طور پر بھی اس کے کٹائی پر پابندی لگائی جائے۔ جنگلات کے تحفظ کے لئے بھی بیس سالہ ایمرجنسی لگائی جائے، تاکہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کیا جا سکے۔ اشفاق وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کے آگاہی کے لئے ایک موثر مہم چلائے، لوگوں کو جنگلات کے”فوائد“ سے باخبر کیا جائے ان میں شعور پیدا کیاجائے کہ جنگلات کی کٹائی سے کون کونسی تباہی آسکتی ہے۔اشفاق وزیر نے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان سے درخواست کی کہ وہ تحصیل برمل کے علاقوں کا معائنہ کیا جائے۔ اور جنگلات کو نقصان پہنچانے والے کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے