شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کیلئے اتوار کا روز بھی قیامت خیز گزرا۔ درہ آدم خیل کے علاقہ کالا خیل ماین نمبر 45میں زہریلی گیس پھٹنے سے 3 کان کن جان بحق،تعلق شانگلہ سے ہیں۔ رواں ہفتہ کوئلہ کان کے دوسرے حادثے میں تین ہلاکتیں ہوئی جبکہ جمعرات کو کوئٹہ میں شانگلہ پیرآباد سے تعلق رکھنے والے کوئلہ کان منیجر کو موٹرسائیکل سواروں سے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔جان بحق ہونے والے کان کن مزدوروں عمرواحد ولد رحیم ذادہ سکنہ باسی الپوری شانگلہ،امداد اللہ ولد فضل رحمان سکنہ باسی شلمانو الپوری شانگلہ جبکہ تیسرفضل واحدولد بارو سکنہ نیڑئی درہ الپوری شانگلہ سے ہیں۔شانگلہ میں کوئی انڈسٹری یا فیکٹری نہ ہونے کیوجہ سے یہاں کے 65فیصد سے زائد لوگ روزگار کی تلاش میں کوئلہ کان کنی سے وابستہ ہیں۔آئے روز امواتوں کا سلسلہ شانگلہ کے عوام کیلئے معمول بن چکا ہیں جو بڑا علمیہ ہیں۔ تحریک انصاف کی سابق حکومت میں کوشش کی گئی کہ پاکستان بھر میں کوئلے کان سے وابستہ ان مزدوروں کی رجسٹریشن کی جائے مگر وہ نہ ہوسکی تاہم اس وقت یہ اقدام قابل ستائش ہیں کہ مرنے والے کوئلہ کان مزدوروں کو ڈیتھ کمپینسیشن کو بڑھایا گیا۔کوئلہ کان مزدوروں کی تنظیموں اور اس سے وابسطہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درہ آدم خیل میں ساندہ جو زہریلہ گیس ہیں سمیت غیرقانونی طور پرقائم کوئلہ کانوں کو بند کرنے عملی اقدامات اُٹھائے تاکہ ایسے حادثا ت رونماں نہ ہوں۔جان بحق کائلہ کان مزدوروں عمرواحد،امداد اللہ اورفضل واحدکی میتوں کو شانگلہ روانہ کردیا گیا ہیں جن کو آج بروز پیر اپنے آبائی علاقوں میں سُپردخاک کردیا جائے گا۔۔