غزہ(مانند نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی محاصرے کے باعث غزہ کے لیے پانی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو صاف پانی تک بہت محدود رسائی حاصل ہے۔فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پانی کی سپلائی منقطع کیے جانے کے بعد غزہ کی پٹی کے لوگوں کے لیے پانی اب زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ پانی ختم ہونے کی وجہ سے اب 20 لاکھ سے زیادہ افراد خطرے میں ہیں۔انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ غزہ میں ایندھن کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیس لاکھ لوگوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ انروا کے مطابق، ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا ہے اور اسرائیل غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا۔غزہ کی پٹی میں صاف پانی ختم ہو رہا ہے کیونکہ واٹر پلانٹس اور سرکاری پانی کی لائنز نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ فلسطینی اب کنوں کا گندا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ ہمیں غزہ میں ایندھن پہنچانے کی فوری ضرورت ہے۔ لوگوں کے لیے پینے کا صاف پانی کا واحد ذریعہ ایندھن ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو لوگ پانی کی شدید قلت سے مرنا شروع ہوجائیں گے، ان میں چھوٹے بچے، بوڑھے اور خواتین سبھی شامل ہیں۔ پانی اب آخری لائف لائن (جان بچانے کا واحد سہارا) ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ انسانی امداد کی اس بندش کو اب ختم کیا جائے۔انروا کا یہ بھی کہنا کہ غزہ میں اب اقوام متحدہ کی پناہ گاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں، اور اس شرمناک حرکت کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انروا نے بیان میں کہا جنگوں کے بھی اصول ہوتے ہیں۔ شہریوں، اسپتالوں، اسکولز، کلینک اور اقوام متحدہ کی جگہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ انروا اپنی پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے شہریوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اور جنگ کے فریقین سے بات کررہا ہے۔ اس جنگ میں عالمی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے. اقوام متحدہ کی عمارتوں، عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ اس جنگ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔مختلف این جی اوز اور حکومتیں غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کی کوششیں کررہی ہیں، جہاں ہزاروں بچے فوری امداد کے منتظر ہیں۔