شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کی سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ،پیپلزپارٹی،اے این پی،مسلم لیگ کا اپنے اپنے قوتوں کا مظاہرہ۔مقامی اتحادوں،آزاد حیثیتوں سے الیکشن لڑنے والے آراکین متحرک روز بروز شمولیتیں۔ نئے اتحاد اور نئے آزاد امیدوار کی ممکنہ انٹری سے شانگلہ کی سیاست تبدیل ہونے کا امکان،شانگلہ کے قومی سیاست میں کئی اہم اتحاد کے بعد نتائج برعکس ہوسکتے ہیں۔نام نہادعلاقائی سیاست کے نام پر تعصب اور نفرت پھیلانے والوں کو غوربند کے لوگ مسترد کرتے ہیں،ان کا سیاست میں کوئی کردار نہیں۔تحریک انصاف پر غیراعلانیہ پابندی کا فائدہ پی پی اور آزاد امیدواران کو ہورہا ہیں۔پیپلز پارٹی کا داموڑی میں،عوامی نیشنل پارٹی کا کروڑہ جبکہ مسلم لیگ کا اچر میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے بعد آزاد حیثیت سے قومی اور صوبائی الیکشن لڑنے والے امیدواران بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔شوکت یوسف زئی کا شانگلہ کے مختلف علاقوں الپوری،پورن،چکیسر،بشام میں ورکرز کنونشن منعقد کرنے کا اعلان۔الیکشن دن بدن قریب ہوتے ہی شانگلہ کا موسم سرد جبکہ سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہیں۔مختلف سیاسی جماعتوں کے ناراض رہنماؤں کو منانے کیلئے لیڈرشپ کا جرگے مشورے شروع ہوگئے۔سیاسی دوستانے، وفاداریاں، یارانے،پرانے تعلقات امڑ آئے۔تاہم سیاسی مبصرین شانگلہ کے قومی حلقے سمیت صوبائی دو حلقوں میں پی ٹی آئی کو زیادہ مقبولیت کی دعوے داری کررہی ہیں۔اس وقت شانگلہ پورن تعلق رکھنے والے اپنے منفرد حیثیت کے حامل راجہ خاندان امیر مقام سے ناراض ہونے کے بعد آزاد حیثیت سے قومی اور صوبائی الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں، راجہ خاندان کو پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت ملنے کا بھی امکان ہیں۔ سیاسی مبصرین شانگلہ میں راجہ خاندان کی امیر مقام سے علیحدگی کو امیر مقام کے لیے نیک شگن نہیں سمجھتے اور ان کا کہنا ہے کہ شروع سے امیر مقام نے راجہ خاندان کی گروہ کی حمایت سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور 2018 کے الیکشن تک ان کے ساتھ وفادار رہے تاہم گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے کامیاب جلسے کے بعد ڈاکٹر آفسرالملک کی کئی اہم سیاسی ملاقاتوں کے بعد ممکنہ اتحاد نے شانگلہ میں جاری اس طویل سیاسی سفر پر اب بریک ہونے کا امکان زیادہ کر دیا ہے۔ پورن کا راجہ خاندان کاآزاد حیثیت سے انتخابات لڑنے کا اعلان کے بعد ن لیگ کی اس حلقے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔شانگلہ کی سیاست کی ازسرنو بات کی جائے تو یہاں شروع ہی سے امیر مقام اور حاجی سید فرین سیاسی حریف رہے ہیں اور بلدیاتی الیکشن سے لیکر قومی الیکشن تک مقابلہ کیا۔اس وقت شانگلہ میں تین صوبائی حلقوں سمیت ایک قومی نشست پر مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہیں جبکہ دیگر جماعتیں بھی تگ و داؤ کررہی ہیں۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے