جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) آپریشن راہ نجات کے دوران تباہ شدہ مکانات سروے کے روکھے گئے فنڈز کے حوالے سے درے محسود قبائل کا متفقہ جرگہ کا انعقاد کیا گیا، درے محسود قبائل کے عمائدین نے تباہ شدہ مکانات کے سروے پر پچھلے کئی مہینوں سے کام کرنے والی احتجاجی جرگے پر اتفاق کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیاگیا کہ آج سے پہلے سروے کی مد میں جس کسی نے بھی کوئی اقدام اٹھائے ہیں، کسی کے لئے روکاٹ بنے ہیں یا کسی کو سروے چیک کے مد میں رشوت دیا ہے یا لیا ہے، اب یہ باتیں قیسہ پارینہ بن چکی ہیں، آج کے بعد سروے کے حوالے سے احتجاجی جرگہ منتظمین سروے پر کام کریگی، اس کے علاؤہ کوئی دوسرا فریق احتجاجی جرگے کو آگاہ کئے بغیر کام نہیں کریگا، کوئی بھی شخص یا گروہ سروے چیک کو آگے پیچھے نہیں کریگا، جن علاقوں کی سروے پہلے ہوئی ہے، اسے پہلے چیک ملینگے، اگر کوئی بھی شخص یا گروہ اس میں ملوث پایا گیا تو وہ درے محسود قوم کا متفقہ جرم دار ہوگا ملوث افراد پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ دھنبے بطور نناواتے قوم کو دینے کا پابند ہوگا، اگر کوئی سرکاری اہلکار اس ضمن میں غلطی کرتے ہوئے پایا گیا تو اسے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے سمیت قومی مجرم بھی تصور کیا جائیگا، سروے فنڈز پر مزید کام کرنے کیلئے محسود قبائل فی ٹوکن 100 روپے احتجاجی جرگہ منتظمین کو دینگے، اس ضمن میں موقع پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے جمع بھی ہوگئے۔ احتجاجی جرگہ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں وہ ایک جرگہ پشاور میں اور ایک جرگہ اسلام آباد میں منعقد کریگی، اور وہاں پر موجود محسود قبائل کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا۔