بریکوٹ (مانند نیوز)اگست 2006 کا نوٹیفکیشن نہ صرف برادری بلکہ محکمہ صحت کی تباہی کا باعث بنتا جارہا ہے ۔نہ نقائص دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور نہ رہی سہی پر من و عن عمل کیا جارہا ہے ۔اگر اصلاح طلب امور کی اصلاح ممکن نہیں تو پھر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ۔بعض افسران قانون کی من مانی تاویلات کرکے اپنے ماتحتوں کے خیر خواہی اور داد رسی کے بجائے بدخواہی پر عمل پیرا ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع سوات کے جنرل سیکرٹری شیر محمد خان نے کیا ۔اور یاد دلایا کہ پیرا میڈیکس برادری جو ترقی کے حوالے سے بر سوں سے ناانصافی اور احساس محرومی کا شکار چلے آرہے تھی، اور داد رسی کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے ۔ان کیلئے اگر 2006 میں سروس سٹرکچر کے نوٹیفکیشن کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جوبظاہر محسور کن آور انصاف پر مبنی نظر آرہا ہے ۔مگر طائرانہ اور تنقیدانہ جائزہ لینے پر کوئی بھی باشعور بندہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے،کہ جہاں پر جمود کی شکار ملازمتی ڈھانچہ کو توڑ کر اگے سکیل نمبر 20 تک ترقیوں کیلئے راہ ہموار کرتی نظر آتی ہے ۔تو وہاں کئ کیڈرز کےساتھ غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ سلوک کا باعث بھی ہے ۔جس کا واحد مثال فارمیسی کیڈر کے اہلکاروں کیلئے نہ تو اگے ترقیوں کیلئے B S کورسز کی سہولت مہیا ہے اور نہ سنیارٹی کی بنیاد پر BPS 16 سے آگے جانے کی مواقع موجود ہیں ۔B S کورسز کے معاملے کا شکار دوسرا کیڈر پی ایچ سی(ایم سی ایچ/ایل ایچ وی) بھی ہے ۔اور ستم بالائے ستم یہ کہ مختلف کیڈرز جسمیں ای پی آئی زیادہ قابل ذکر ہیں،کو ایک کیڈر میں سمو کر پی ایچ سی ملٹی پرپز کے نام سے گردانہ گیا ہے ۔آور انکے لئے محکمہ فنا نس کیطرف سے یکساں یعنی ایک اکاونٹس کوڈ بھی دیا گیا ہے ۔مگر نہ سنیارٹی لسٹ میں ان کو جائز مقام دیا گیا ہے اور نہ تاریخ تعیناتی کو ترقیوں کیلئے بنیاد بنا کر ان کو ترقیاں دی جارہی ہے ۔جوکہ ترقی کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے ۔اور اس سے بڑھ کر محکمہ صحت کے بعض افسران نہ صرف ای پی آئی یا لیپروسی کے پرانے اسناد پر بھرتی شدہ اور ڈپلومہ کے بنیاد پر بھرتی شدہ نئے اہلکاروں کیلئے جاب دسکریپشن وضع کرنے میں ناکام چلے آرہے ہیں ۔بلکہ اسی ڈپلومہ پر ایک ہی اتھارٹی کےتحت بھرتی ہونے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ یا پھر خالی پڑے رہنے والے سابقہ کیڈر کے میڈیکل ٹیکنیشن،لیپروسی ٹیکنیشن اور ملیریا ٹیکنیشن کی اسامیوں پر تبادلے کرنے نہیں دئے جاتے ۔جو نا ناانصافی اور ظلم و جبر کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظرانداز کیڈروں کے آگے ترقیوں کیلئے یکساں اور مساویانہ مواقع فراہم کیا جائے یا ان کے سابقہ حیثیت کو برقرار رکھ کر الگ الگ سنیارٹی لسٹیں اور اپنے اپنے شعبوں میں اگے منصفانہ ترقیوں کیلئے راہ ہموار کیا جائے ۔بصورت دیگر ایک کیڈر کی صورت ہونے پر تاریخ تعیناتی سے سنیارٹی لسٹیں بنا کر منصفانہ ترقیاں دینے اور سابقہ تمام اسامیوں پر تبادلوں کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے