جمرود(نمائندہ مانند )وادی تیراہ راجگل میں سیکورٹی فورسزاہلکاراکی فائرنگ سے ایک بیگناہ شخص شہید، قوم کوکی خیل کا میت کو باب خیبرکے مقام پر رکھ کر احتجاجی دھرنا جاری۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع خیبرکے دورافتادہ علاقہ وادی تیراہ راجگل میں سیکورٹی فورسز اہلکار نے ایک مقامی شخص طلا ء اکبرکو تلخ کلامی پر فائرنگ کرکے شہید کیا۔جس پر مقامی لوگوں نے سیکورٹی فورسز اہلکار کی اس بزدلانہ اقدام پر شدید رنج وغم کا اظہار کیا اور شہیدکی میت کو وادی تیراہ سے لاکر جمرود میں باب خیبرکے مقام پر رکھ کر احتجاجی دھرنا شروع کیاہے اور پاک افغان شاہراہ کو بند کیا۔احتجاجی دھرنا میں قوم کوکی خیل مشران وکشران کے علاوہ ضلع خیبرکے دوسرے تحصیلوں باڑہ اور لنڈیکوتل سے تعلق رکھنے والے سیاسی وسماجی اور مشران نے بھی کثیرتعداد میں شرکت کیں۔اس موقع پر ملک نصیراحمد، سابقہ ایم این اے اقبال آفریدی، این سی ٹو چیئرمین شاہدخان،وی سی غنڈی چیئرمین نورالامین حقانی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آردرج کرکے کاروائی ہونی چاہیئے اور اس کو پھانسی دینی چاہیئے تاکہ آئندہ یہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہم کسی سے ڈرنے والے ہیں جب تک اس بے گناہ شخص کو انصاف نہیں ملتا ہم اس کے خاندان کے ساتھ کھڑے رینگے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز وادی تیراہ میں بے جا جگہوں پر قائم چیک پوسٹیں ختم کریں کیونکہ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے ہماری خواتین گھروں سے نہیں نکل سکتی اور قبائلی عوام کے ساتھ آور ظلم بند کریں۔اب ہم خاموش نہیں رہے گے۔آرمی چیف، وزیراعظم،صدر، وزیراعلی اورگورنراس پر فوری ایکشن لیں اور سیکورٹی فورسز اہلکار کے خلاف کاروائی کریں اور شہید طلاء اکبر کے لواحقین کو انصاف فراہم کریں قومی دھرنے کے شرکاء نے درج ذیل مطالبات پیش کرکے دھمکی دی کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے احتجاجی دھرنا جاری رینگے۔انہوں نے درجہ زیل مطالبات پیش کئے (۱)واقعہ میں ملوث سرکاری اہلکار پر ایف آر درج کرکے کورٹ مارشل کیا جائے (۲)تیلا اکبر شہید کو 50 لاکھ روپے کا شہید پیکج دیا جائے(۳): طیل اکبر شہید جو کہ گھر کا واحد کفیل تھا,اب اس کے گھر میں کمانے والا کوئی ذمہ دار نہیں رہا,لہذا شہید کے بچے کو سرکاری نوکری دلوائی جائے (۴)قبائلی علاقے خاص کر تیراہ توردرہ میں غیرضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔یادرہے کہ آخری اطلاعات آنے تک قومی مشران اور ضلعی انتظامیہ کے مابین مذاکرات جاری تھے جبکہ شہیدکی میت کو باب خیبرسے اٹھاکر بائی پاس پر لے جاکر رکھ دی اور پاک افغان شاہراہ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند کیا۔