اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) افغانستان میں گر کر تباہ ہونے والا روسی طیارہ بھارت سے تاشقند جاتے ہوئے 45 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں رہا۔سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق مراکش کی رجسٹریشن CN-TKN کا حامل ایف اے 10 (ڈسالٹ فالکن 10)طیارہ 50 سال پرانا تھا جو نجی اور چارٹرڈ پرواز کے لیے تھائی لینڈ کے ریونگ پٹایا انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی رات ایک بجکر 20 منٹ پر روس کے لیے روانہ ہوا۔طیارہ میانمار سے ہوتے ہوئے مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے کولکتہ کے قریب سے بھارت میں داخل ہوا۔ لکھن اور چندی گڑھ سے ہوتے ہوئے مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 50منٹ پر لاہور کے قریب طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، طیارہ اس وقت 37925 فٹ کی بلندی پر 570 کلومیٹر کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔اپھالیہ، منڈی بہاؤ الدین اور اسلام آباد سے ہوتے ہوئے بدقسمت طیارہ پشاور کے قریب سے صبح لگ بھگ 6 بج کر 35 منٹ پر افغانستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اس وقت تک طیارہ معمول کی 36150 فٹ کی بلندی اور 570 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر تھا، قیاس کیا جاتا ہے کہ طیارے نے افغانستان میں مزید 30 منٹ تک سفر کیا اور مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 30 منٹ پر طیارہ افغانستان کے شمال مشرقی بدخشاں صوبے کے پہاڑی سلسلے میں حادثے کا شکار ہوا۔ دو انجنوں والا یہ طیارہ فرانس کے ڈسالٹ نے 1978 میں بنایا تھا اور اس کی ملکیت ایتھلیٹک گروپ نامی کمپنی اور کسی ایک شہری کے پاس تھی۔ سی اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان صوبے بدخشاں میں گرنے والے روسی ایمبولینس طیارے نے پاکستانی حدود بھی استعمال کی تاہم پائلٹ نے کسی ایمرجنسی سے آگاہ نہیں کیا۔ دوسری جانب افغان وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حادثے میں پائلٹ سمیت 4 مسافر زندہ بچ گئے، 2 لاپتا مسافروں کی تلاش جاری ہے۔ واضح رہے کہ روسی ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے میں ایک روسی مریضہ سمیت 6 افراد سوار تھے۔ بھارت کی فضائی حدود سے لاہور سے پاکستان میں داخل ہوکر پشاور سے افغانستان میں گیا۔