جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) تفصیلات کے مطابق ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں قومی اسمبلی کے امیدوار مولانا جمال الدین پر ڈسٹرکٹ پولیس جنوبی وزیرستان اپر کی 3300 کے قریب سرکاری ووٹوں کی درخواستوں پر ار او افس جنوبی وزیرستان اپر میں ایک شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا جس میں جمیعت کے علاوہ باقی تمام امیدواروں کے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ سیکیورٹی برانچ کے اہلکار حوالدار اصف اور جمیعت کے سابقہ ایم این اے مولانا جمال الدین کے درمیان پولیس کے سرکاری ووٹ کے حوالے سے اتفاق بارگین ڈی ائی خان میں معاملات طے پائے جہاں پر پولیس کے سرکاری ووٹ کا تین کروڑ روپے پر سودا ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو اپنے سرکاری ووٹ کا پتہ نہیں اور یہ تمام کے تمام درخواست مکمل طور پر جعلی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر سرکاری اہلکار اپنا سرکاری ووٹ کے لئے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سے سٹیمپ لگوا کر ڈاک خانے سے ار او افس بھیجتا ہے جو کہ انفرادی رجسٹری میں اتا ہے لیکن یہاں پر48 بنڈلوں میں 3300 کے قریب ووٹ کی درخواستیں ائے ہیں جو کہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک اس دھاندلی زدہ 3300 سرکاری ووٹوں کی درخواستوں کے خلاف انکوائری کنڈکٹ نہیں ہوتی تب تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس حوالے سے ریٹرننگ افیسر اعجاز اختر سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بلال سے اس حوالے سے موقف دینے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے بھی رابطہ نہ ہو سکا۔