پشاور(مانند نیوز ) پشاور میں بچوں پر جنسی حملوں کی روک تھام کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام ہیومن رائٹس ینگ آرگنائزیشن نے کیا تھا۔ سیمینار میں ملک بھر سے ڈاکٹرز، وکلاء، سماجی شخصیات اور علاقہ عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس ینگ آرگنائزیشن خیبرپختونخوا کے صدرہارون باچا نے کہا کہ ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح میں افسوسناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی یہ ناسور تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور بہت زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اس مکروہ فعل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے، انہوں نے بتایا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ دس سے بارہ بچے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 2227 بچے اسی تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ والدین کے ساتھ ساتھ ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے ہر بچہ کی حفاظت میں حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 ء میں ہیومن رائٹس ینگ آرگنائزیشن کے نام سے یونائیٹڈ نیشنز میں ایک تنظیم نوجوانوں نے بنائی تھی،اس کے بعد سندھ،خیبرپختونخوا اور پنجاب میں فعال ہوئی،اس میں نوجوانوں کی تعداد چار ہزار تھی جبکہ خیبرپختونخوامیں تنظیم کے پاس 2500تک نوجوان موجود ہیں جو مختلف پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں، کام کے طریقہ کار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایچ آر وائی او کے پاس وکلاء کی ٹیم ہے، گورنمنٹ کے اداروں میں بھی لوگ موجود ہیں ہم مشورہ کر کے قانونی راستہ اختیار کر کے کیسز کرتے ہیں۔ ڈومیسٹک وائلنس،ٹوبیکو اور اینٹی نارکاٹکس کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری ایچ آر وائی او حاجی عزت نذیر، محمد شہاب ایڈوکیٹ، عمر بن عبدالعزیز، جواد احمد، اعظم طارق، ملنگ جان، عالمزیب خان، حاجی آصف، شاہد سرمد، محمد یوسف و دیگر نے کہا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ من حیث القوم ہم اخلاقی گراوٹ کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں،بچوں پر جنسی حملوں کی روک تھام کیلئے معاشرے میں آگاہی پیدا کی جائے اور اس کیلئے سخت سے سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور اچھی تربیت کرنا سنت نبوی ہے۔ بچوں کی تربیت اور فرسٹ سٹیپ پر نگہبانی کا سوچنا بھی والدین ہی کا کام ہے۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے کیسز میں ملوث مجرم زیادہ تر بچوں کے قریبی رشتہ دار یا جاننے والے ہی ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہیومن رائٹس ینگ آرگنائزیشن کے افراد کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ اس بارے میں ہم مزید آگاہی پھیلائیں، میڈیا کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہئے، عوام اس ناسور کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔ آواز اٹھائیں کہ جو بھی شخص ایسا کام کرے اس کیلئے قانون میں سخت سزا دی جائے۔ تقریب کے آخر میں شرکاء میں سرٹیفیکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔