چترال (نمائندہ مانند گل حماد فاروقی )چترال اور مضافات میں گزشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ چترال شہر میں دو سے تین انچ تک برف باری ہوی ہے جبکہ لواری ٹنل روڈ پر دو فٹ تک برف ریکارڈ ہوچکا ہے۔ گرم چشمہ سڑک شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ہے جس کی وجہ سے چالیس ہزار لوگوں کا چترال سے رابطہ منقطع ہے۔ دو دن مسلسل بارش کے بعد ضلع اپر اور لویر چترال میں گزشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بازاروں میں رش نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہایت کم ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بغیر کسی حاص ضرورت کے سفر کرنے سے گریز کرے تاکہ برفانی یا مٹی کا تودہ گرنے کی وجہ سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔وادی کیلاش کی تینوں علاقوں بمبوریت، بیریر، رمبور اور شیخانندہ میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے جہاں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ مڈگلشٹ میں دو فٹ سے زیادہ برف باری ہوی ہے اور وہاں کا راستہ بھی جگہہ جگہہ برفانی تودے گرنے کی وجہ سے حراب ہوا ہے۔ چترال کے لوگ برف باری کے دوران خود کو سردی سے بچانے کیلیے لکڑی جلاکر آگ جلاتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ چترال میں طویل خشک سالی کے بعد اس سیزن میں دوسری بار برف باری ہوی ہے تاہم مقامی بزرگوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں پندرہ سال بعد برف باری ہوی ہے۔ مقامی ماہرین کے مطابق جب نومبر، دسمبر یا جنوری میں برف باری ہوتی ہے تو وہ دیرپا ہوتی ہے اور کافی حد تک وہ جمی رہتی ہے جو موسم گرما میں پانی کا بڑا ذحیرہ ہوتا ہے مگر اس موسم میں برف جلدی پگھل جاتی ہے۔ حالیہ برف باری سے ایک طرف اگر عوام خوش ہیں تو دوسری طرف زمیندار طبقہ بھی نہایت پرامید ہے کہ اس سے ان علاقوں میں کھیتوں کو سیراب کیا جایے گا جہاں نہری پانی دستیاب نہیں ہے اور لوگ بارش یا برف کی پانی سے اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں۔ گرم چشمہ کے عمایدین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہای وے اتھارٹی نے ابھی تک سڑک سے برف ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پورے وادی کے لوگ محصور ہوچکے ہیں اور ان کو روزمرہ استعمال کی چیزیں، تازہ سبزی اور مرغی، گوشت وغیرہ بھی فراہم نہیں کی جاتی۔برف باری کے دوران بچے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور وہ برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینک کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ چونکہ چترال مِیں لوگ کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلیے جنگل کی لکڑی جلاتے ہیں جس سے جنگلات پر نہایت بوجھ پڑتا ہے اور جنگلات کی بے دریغ کٹای سے ماحولیات پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جہاں دوسرے علاقے متاثرہورہے ہیں وہاں چترال جیسے ٹھنڈے علاقوں پر بھِی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بروقت نہ تو بارشیں ہویی اور نہ برف باری۔علاقے کے لوگ صوبایی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال کے لوگوں کو گولین گول پن بجلی گھر سے سستی نرح پر بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں گیس پلانٹ کیلیے جو کروڑوں روپے سے سرکاری زمین خریدی گیی تھی اس منصوبے کو دوبارہ بحال کرکے اس پر گیس پلانٹ لگایا جایے تاکہ یہاں کے لوگ کھانا پکانے اور خود کو سردی سے بچانے کیلیے لکڑی جلانے کی بجایے گیس یا بجلی کا ہیٹر استعمال کرے تاکہ جنگلات کی بے دریغ کٹای کی وجہ سے یہ سیاحتی علاقہ موسمیاتی تبدیلی کی منفی اثرات سے بچایا جاسکے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت چترال کے طول و عرض میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور درجہ حرارت بھی نقطہ انجماد سے نیچے گرا ہوا ہے۔ مسافروں اور سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ لواری سرنگ سڑک پر سفر کرنے سے پہلے سڑک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سنو چین ضرور استعمال کرے تاکہ برفیلے سڑک پر سفر کے دوران پھسلنے سے بچ جایے اور محفوظ طریقے سے سفر جاری رکھ سکے۔ واضح رہے کہ برف باری کے دوران کثیر تعداد میں سیاح ان علاقوں میں آتے ہیں اور برف باری سے لطف اندوز ہوکر اس میں سیلفی اور تصاویر بناتے ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے