جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) کسٹم حکام اور ڈویژنل انتظامیہ ایرانی پٹرولیم مصنوعات سمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر پٹرول پمپس کو تالے لگاکر ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا، پمپ یونین ایسوسی ایشن کے صدر اقبال خان محسود نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے برآستہ درابن ڈیرہ اسماعیل خان خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کو ایرانی ڈیزل اور پٹرول کی سمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے حکومت سے منظور شدہ پٹرول پمپ ملکان کو شدید نقصان کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ پمپ ملکان ایک پمپ کی حکومتی منظوری اور تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کرکے بنائے گئے ہیں اور حکومت کو سالانہ اربوں روپے ٹیکسوں کی مد میں آدا کرکے ملکی معیشت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ رشوت کے عوض ائل ایجنسیوں کو اجازت نامے دیکر حکومت سے منظور شدہ پٹرول پمپ ملکان کے قانونی کاروبار کو بری طرح متاثر کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومتی کمپنیاں پٹرول پمپ ڈیلروں کو کچھ روپے کم تین سو روپے لیٹر فراہم کرتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مذکورہ غیر قانونی ائل ایجنسیوں پر ایرانی ڈیزل اور پٹرول دو سو روپے لیٹر فروخت ہو رہا ہے جس کے باعث علاقے کے پمپوں کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ میں کسٹم حکام سمیت پولیس اور ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر ملوث ہے اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات نہیں آٹھا رہے، انہوں نے کمشنر اور ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی پٹرولیم کی سمگلنگ اور غیر قانونی ائل ایجنسیوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاکر تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو تحریری حکم نامہ جاری کرکے ان ائل ٹینکرز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے جو کہ بغیر ڈپو ایڈنٹ اور دیگر دستاویزات کے مختلف چیک پوسٹوں سے گزر کر ائل ایجنسیوں اور پٹرول پمپس کو ایرانی ڈیزل اور پٹرول سپلائی کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ڈویژنل انتظامیہ نے اس ضمن میں عملی اقدامات نہیں آٹھائے تو تمام پٹرول پٹرول پمپس کو بند کرکے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا جس کے تمام تر ذمہ داری ڈویژنل انتظامیہ اور پولیس حکام پر عائد ہوگی۔