کرک (مانند نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت جنوبی اضلاع کی بالخصوص جبکہ پورے صوبے کے بالعموم تمام محرومیاں ختم کرکے ترقی کی راہ پر گامزن کریگی۔ضلع کرک میں پانی کا شدید مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کیلئے دریائے سندھ سے براستہ شکردرہ اپ لفٹ کینال کی فیزیبلٹی کریں گے جبکہ کرم تنگی ڈیم سے کرک اور جنوبی اضلاع کو نہر دیں گے جس سے کرک میں زرعی انقلاب آئے گا، بنجر زمین قابل کاشت ہوگی جس سے نہ صرف ہم اجناس میں خود کفیل ہوں گے بلکہ سبزیاں اور اجناس دیگر اضلاع کو فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز کرک پریس کلب کے دورے کے موقع پر پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسی سال کرک میں میڈیکل کالج اور میڈیکل سائنسز انسٹی ٹیوٹ پر کام شروع ہوگا جبکہ جپسم سٹی کے قیام میں حائل تمام رکاؤٹیں ختم ہوچکی ہیں اس پر بھی کام جلد شروع ہوگا جبکہ کرک کے معدنی وسائل سے مالامال شین غر پہاڑوں تک رسائی نہیں تھی جہاں تک رسائی کیلئے 32 کلو میٹر خوڑہ روڈ کی منظوری ہوچکی ہے جس کی تکمیل سے شین غر کے معدنیات پر کرک کو اختیار حاصل ہوجائے گا۔سجاد بارکوال کا مزید کہنا تھا کہ کرک کے تیل وگیس رائلٹی فنڈ میں وزیر اعلی نے 5 فیصد اضافہ کرکے 10 سے 15 فیصد کردیا ہے۔اس وقت کوہاٹ ڈویژن کے رائلٹی کے 17 سے 20 ارب روپے بقایاجات ہیں جس کے ریلیز کیلئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس این جی پی ایل نے گیس منصوبے کے لئے 7 ارب روپے لئے جو کہ رائلٹی کے پیسے ہیں اس کی انکوائری کریں گے کہ اتنی بڑی رقم کہاں اور کیسے خرچ کی گئی جبکہ ابھی وہ گھر گھر گیس پہنچانے کے لئے مزید 14 ارب روپے مانگ رہے ہیں۔اس نے ہمارے گلی کوچوں اور سڑکوں کو کھنڈرات بنا دیا ہے انہوں نے کہا کہ رائلٹی فنڈ کو ہم ایسے میگا پراجیکٹس پر خرچ کریں گے جس سے ضلع کو ریونیو ملے تاکہ کل کو رائلٹی بند ہوجائے تو کرک کو اپنی امدن ملتا رہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مول کمپنی کو 10 فیصد پر تمام کنٹرول دینا ظلم اور زیادتی ہے جبکہ تیل کمپنیاں اپنے معاہدے اور مقدار سے زائد تیل و گیس نکال رہے ہیں جس کے لئے ہم تھرڈ پارٹی اور گیج کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ وہ ایک دن میں کتنا تیل وگیس نکال رہے ہیں۔وزیر زراعت نے کہا کہ ماضی کے برعکس زراعت کے اہم شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔احمد والا زرعی فارم کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ 2 مزید سب زرعی تحقیقاتی فارمز غنڈی شہباز خان اور تحصیل بانڈہ میں قائم کررہے ہیں جہاں پر ہم تجرباتی بنیاد پر زعفران کی کاشت کریں گے اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو اس سے بہت زیادہ منافع اور آمدنی ہوگی. اسی طرح مختلف علاقوں باغات بھی لگائیں گے جس کے لئے عوامی اگاہی مہم ضروری ہے تاکہ عوام اس طرف مائل ہوں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے