پبی (مانند نیوز)مرکزی صدر ایپکا پاکستان چوہدری خالد جاوید سنگھیڑا مرکزی سیکرٹری جنرل ایپکا اورنگزیب کشمیری نے میڈیا کے نما ئندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بھاری ٹیکس وفاقی حکومت کا احمقانہ اور مضحکہ خیز فیصلہ ہے تنخواہ اجرت کا معاوضہ ہے کوئی آمدن کا مستقل ذریعہ نہیں ہے حکومت ملازمین کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے غریب دشمن پالیسیوں کے ذریعے معاشی استحصال کرکے انکے منہ سے نوالہ چھیننے کی سازشیں کر رہی ہے انہوں نے حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرکے گریڈ ایک سے سولہ تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے انکا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سرکاری ملازمین واحد طبقہ ہیں جوکہ سالانہ 300 ارب ٹیکس دیتے ہیں۔اور باقی ماندہ کارخانہ دار،ملز مالکان،تاجر برادری،ھول سیل ڈیلرز صرف 75ارب روپے سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔وفاقی حکومت اس ایلیٹ طبقے کو ہر چیز میں سبسڈی بھی دے رہی ہے لیکن ملکی اشرافیہ نے اپنی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کا سارا بوجھ اس دفعہ پھر بھاری ٹیکسز کی شکل میں سرکاری ملازمین پر ڈال دیا ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ریاست کا ہراول دستہ ہوتے ہیں اور ملک کے تمام تر دفتری امور کو چلانے میں انکا کلیدی کردار ہوتا ہے مگر ریاست مہنگائی میں پسے غریب ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے۔وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں پچیس فیصد اضافے کا لولی پاپ دے کر حکومت نے ٹیکسز کی صورتِ میں تیس سے چالیس فیصد واپس لے لیا ہے جو کہ ملازمین کے ساتھ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے ایپکا پاکستان کیلئے حکومت کا یہ ظالمانہ فیصلہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ ٹیکس ختم کیا جائے پنجاب میں لیو انکیشمنٹ ترمیمی ایکٹ جیسے کالے قانون کو فوری طور پر منسوخ کرکے سابقہ طریقہ کار بحال کیا جائے اور خیبرپختونخوا میں پنشن اصلاحات کے نام پر پنشن کموٹیشن گریجوٹی پر جو کالا قانون نافذ کیا ہے وہ بھی فوری طور پر واپس لیا جائے ورنہ ملک بھر کے سرکاری ملازمین دفتری نظام کا پہیہ جام کرکے اپنے جائز حقوق کیلئے احتجاج پر مجبور ہوں گے.