اسلام آباد(نمائندہ مانند)میجر جنرل عبد المعید، ہلال امتیاز (ملٹری) ڈائریکٹر جنرل، اینٹی نارکوٹکس فورس، پاکستان نے ایک پیغام میںکہا ہے کہ منشیات کے استعمال کی بڑھتی ہوئی لہر ہمارے معاشرے کے لئے بے مثال چیلنج ہے، جس کے چلتے اسمگلنگ نیٹ ورکس کی طرف سے جدید رجحانات کو تقویت ملی۔ یہ عمل ہمارے معاشرے کو خطرے سے دوچار اورقومی اقدار کو کمزور کرتا ہے۔ منشیات کی روک تھام، علاج و بحالی، اورنفاذ قانون کیلئے مضبوط حکمت عملی اپناتے ہوئے مستحکم اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ایک متفقہ نقطہ نظرکو اپنا کر ہم اپنے مستقبل کی حفاظت کرسکتے ہیں اور اپنے گلی محلوں اور ماحول کو منشیات کی لعنت سے پاک کر سکتے ہیں۔
سرحدوں کے پار منشیات کی اسمگلنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال کسی خطرے سے کم نہیں۔ خودکار مصنوعی منشیات کی پیداوار اور ان کی خرید و فروخت کیلئے کرپٹکو کرنسی اور ڈارک ویب کے ذریعے تجارت سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستانی حکومت، انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے ذریعے مصنوعی طریقے سے تیار شدہ منشیات کے پھیلاؤ کے خلاف قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ خصوصی تعاون کررہا ہے۔یہ کوشش نوجوان نسل کو تحفظ فراہم کرے گی اور معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان سے محفوظ بنائے گی۔
اے این ایف نے منشیات کی ترسیل میں کمی کیلئے حکمت عملی پر خصوصی توجہ دی ہے، جس میں اسمگلنگ میں ملوث منظم تنظیموں کا خاتمہ کرنا، کنٹرول شدہ ترسیل کے نظام کا نفاذ، پوست کی کاشت کی تلفی اور منشیات کی اسمگلنگ کے تسلسل میں خلل ڈالنا شامل ہے۔منشیات سے متعلق جرائم کا مقابلہ کرنے اور معاشرے کو منشیات کے استعمال کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے میں ان کاوشوں کا کردار ناقابلِ تردید ہے۔
اے این ایف نے منشیات اسمگلنگ کیخلاف جاری مہم کو کامیاب بنانے میں عالمی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے اور سخت سے سخت سزاؤں کی حکمت عملی پر توجہ دی ہے۔منشیات کی طلب میں کمی کے اقدامات، متاثرہ افراد کی مدد کے لئے آگاہی مہم، علاج و بحالی مراکز کا قیام، اور کمیونٹی پروگراموں کا انعقادروزِ اوّل سے اے این ایف کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اے این ایف، بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ باہمی تعاون، مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لینے، انٹیلی جنس اور بہترین تجربات کا تبادلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور تجارت کو محفوظ بنانے اور اسمگلنگ کو موثر طور پر روکنے کے لئے بین الاقوامی انسدادِ منشیات پالیسی کی پاسداری اور تعاون میں مصروف عمل ہے۔
منشیات سے متعلق جرائم سے نمٹنے کیلئے اے این ایف کی حد درجہ جدوجہد میں سائنسی طریقہ کار کا اہم کردار ہے۔جدید فارنزک تکنیک کو بروئے کار لا کر، پیچیدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے اور عالمی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے، اے این ایف ناقابل تردید شواہد کا ڈیٹا یقینی بناتا ہے۔سائنسی طریقہ کار سے یہ وابستگی نہ صرف تحقیقات کو بڑھاوا دیتی ہے۔ بلکہ غیر متزلزل انصاف کی فراہمی اور استغاثہ کو بھی تقویت دیتی ہے۔
ہم منشیات کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے ”اے این ایف کے شہدا” کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی لگن منشیات سے پاک معاشرے کے لئے جدوجہد میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔آخر میں، میں اے این ایف کے تمام جوانوں کی منشیات کے خلاف جنگ میں مسلسل استقامت اور نگرانی کوسلام پیش کرتا ہوں۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر رہے۔۔۔آمین
میجر جنرل عبد المعید، ہلال امتیاز (ملٹری)
ڈائریکٹر جنرل، اینٹی نارکوٹکس فورس، پاکستان