پشاور (مانند نیوز) روک سکو تو روک لو۔محکمہ ٹرانسپورٹ ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں بدعنوانی،کرپشن اور خُرد برد کے نئے سکینڈل سامنے آگئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ خیبر پختون خوا نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے نقش قدم کے برعکس چلتے ہوئے کرپشن کرنے اور دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری رکھنے کا شاید عزم کررکھا ہو؟ محکمہ ٹرانسپورٹ ڈرائیونگ لائسنس برانچ کی جانب سے انوکھاڈرائیونگ لائسنس کا ایک نیا سکینڈل سامنے آیا ہے جس میں ایک شہری کو تین مختلف تفصیلات کے حامل ڈرایؤنگ لائسنس جاری ہوچکے ہیں۔ ایک ہی شناختی کارڈ پر شہری کو دو مختلف ڈرایؤنگ لائسنس نمبرات سمیت الگ الگ کارڈ ایکسپائری نمایاں ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد سلیمان نامی شہری جس کے قومی شناختی کارڈ نمبر17301-4325830-5 پر ڈرایؤنگ لائسنس نمبر10020058974 جاری ہوا اس کارڈ کا اجراء 09مارچ 2021جبکہ اس کی آخری معیاد کی تاریخ 15مئی 2029درج ہے لیکن اُسی شہری کو مذکورہ شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس نمبر کے حامل ایک اور ڈرایؤنگ لائسنس جاری ہوا جس میں کارڈ کی آخری میعاد 08مارچ 2026درج ہے۔ اس سے زیادہ حیران کُن امر یہ ہے کہ اس محمد سلیمان کو ایک اور ڈرائیونگ لائسنس جاری ہوا ہے جس کا ایک اور الگ ڈرائیونگ لائسنس نمبر 10020058210 درج ہے۔ جبکہ اس کارڈ کا اجراء 16فروری 2021اورکارڈ کی آخری میعاد 01اپریل 2029درج ہے۔دھوکہ دہی اور فراڈ کی یہ عجب کہانی صرف یہاں ممکن ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی فوج در فوج موجود ہے۔ جس کا کام محکمے کی ویب سائٹ، آن لائن ویری فیکیشن سمیت ڈیجیٹل میڈیا سے اور آئی ٹی سیکشن سے متعلق معاملات کی نگرانی اور دیکھ بھا ل کرنا ہے۔ جب اس ضمن میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ ضیاء الحق، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ احمد کمال اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے ترجمان ارسلان سے رابطہ کر کے موقف لینے کی کوشش کی لیکن کسی نے بھی زحمت گوارہ نہیں کی۔