جمرود(نمائندہ مانند )ضلع خیبر آفریدی قوم میں خسراجات، انتقالات پر مکمل پابندی ہے خلاف ورزی کی صورت میں، پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ایم این اے این اے 27 اقبال آفریدی تفصیلات کے مطابق میڈیا کو خبر دیتے ہوئے ایم این اے این اے 27 اقبال آفریدی نے عوام کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 سال پہلے ہم نے آفریدی قوم اور ضلع خیبر کے تمام اقوام میں خسراجات و انتقالات کی مخالفت کی ہے اور باقاعدہ پچاس لاکھ جرمانے کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہاں زمینوں کے خسراجات و اں تقالات نہیں ہے وگرنہ سٹل کے لوگ یہاں آئینگے اور یہاں کے آفریدیوں کے زمینوں پر دعوےٰ کرینگے جسکے نتیجے میں افریدی قوم کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔اس حوالے سے این سی ٹو جمرود چیئرمین شاہد خان نے کہا کہ چونکہ پولٹیکل انتظامیہ خیبر نے غالبًا 2011ء میں اپنے سرکاری معاملات کے لئے دو عدد پٹواری بھرتی کئے ہیں جنکا لینڈ ریکارڈ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ قبائلی علاقوں میں لینڈ ریونیو ریکارڈ موجود ہی نہیں تھا اس لئے محکمہ ریوینیو نے ان دو پٹواریوں کو بھرتی نہیں کئے ہیں۔انگریزوں نے جب خیبر میں قدم رکھا اور جمرود قلعے کو اپنے تحویل میں لے لیا تو انگریز حکومت نے اپنے لئے قلعے کے اردگرد زمین کی حد براری کی تاکہ مستقبل میں اس زمین پر سکول کالج، ہسپتال،ایڈمنسٹریشن کے دفاتر، بازار اور دیگر ضروری سرکاری عمارات بنائے جائیں۔اس ریکارڈ کو 1919ء اور 1920 ء فیلڈ بک یعنی کتاب کی شکل میں محفوظ کیا گیا۔ماضی قریب ہی میں پٹواریوں نے اور پولٹیکل افسران نے اس ریکارڈ کو چھیڑنے کی کوشش شروع کی اور لوگوں سے پیسے لئے اور پیسوں کے عوض ان سرکاری زمینوں کے خسرے جاری کئے۔اب خسرہ جس پر پردادا کے نام پر جاری ہوا ہے جوکہ اسی وقت سے یعنی 1919ء سے اب تک اُسی کے نام پر ہی ہے لیکن وقت کے ساتھ انتقال نہیں ہوا اور نہ ہی پردادا کے وارثین میں تقسیم ہوا ہے لیکن متعلقہ محکموں کے آفسران نے رشوت پر جعلی طریقوں سے ایک نمبر پر مختلف جگہوں پر خسرے جاری کئے گئے ہیں۔ انضمام کے فوراً بعد اور عدالت کے آنے کے بعد ان خسروں کے مالکان نے کمرشل زمینوں کے نقشے تیار کئے اور ٹی ایم اے جمرود میں جمع کرکے کمرشل پلازوں کی تعمیر کے لئے منظوری مانگی گئی جن کو ٹی ایم اے جمرود نے ویریفیکیشن کے لئے تحصیل ایڈمنسٹریشن سے کلیئرفیکشن لی جنکو تحصیل ایڈمنسٹریشن نے کلیئر کئے وہ بھی زرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پٹواری اور ٹی ایم اے کو رشوت کے زریعے منظوری لی اور جمرود بازار اور بازار کے قریب پلازوں کی تعمیر شروع ہوئی۔ ان جعلی خسراجات کے خلاف مقامی لوگوں نے پشاور ہائی کورٹ میں انکوائری کے لئے کیس بھی دائر کیا ہے اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر کو انکوائری کے لئے نوٹس بھی جاری ہوا ہے موجودہ اسسٹنٹ کمشنر جمرود اس انکوائری کا افسر بھی ہے۔لیکن ابھی تک انکوائری مکمل نہیں ہوئی اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ کو جواب دیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ پٹواریوں کو بچایا جا رہا ہے۔ اب خدشہ ہے کہ سفید سنگ کے پشاوری، تہکال بالا اور باڑہ تحصیل کے سنگ پر واقع شیخان و اچینی بالا کے لوگوں کے پاس ان زمینوں کے شامالات کے کاغذات موجود ہیں جیسا کہ گزشتہ روز خلیل عوامی تحریک تہکال کے لوگوں نے جمرود سیول کورٹ میں شاکس کے زمینوں پر میں کیس دائر کی ہے۔یہی پشاور کے لوگ جمرود میں جعلی خسراجات کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرینگے اور عدالت سے انصاف مانگے گے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع خیبر کے ایم این اے اور ایم پی ایز کی زمہ داری بنتی ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلی فلور پر بھی اس معاملے کو اٹھائے اور شفاف انکوائری کرکے ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کریں اور اس کیس کو نیب کے بھی حوالے کریں۔