ایبٹ آباد (مانند نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمشنر ہزارہ کے دفتر میں ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے حکام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس چار گھنٹے طویل تھا اور اس میں ہزارہ ڈویژن کے انتظامی معاملات اور عوامی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ کو ڈویژن کے انتظامی امور اور مختلف شعبوں میں سروس ڈیلیوری کی صورتحال پر بریفنگ دی، جن میں صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی، بلدیات، سماجی بہبود اور ریونیو سمیت دیگر اہم شعبے شامل تھے۔اس اجلاس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کابینہ اراکین، قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران، کمشنر ہزارہ اور متعلقہ اضلاع کے انتظامی حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے ایوب ٹیچنگ اسپتال میں اسپیشلسٹ کی 100 میں سے 90 آسامیاں خالی ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو دو ماہ کے اندر ان آسامیوں پر کنٹریکٹ بھرتیاں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں بھرتیاں نہ ہوئیں تو ذمہ دار حکام کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کرنے کی ہدایت جاری کی اور طبی مراکز میں 100 فیصد ادویات کی دستیابی یقینی بنانے پر زور دیاوزیر اعلیٰ نے کہا کہ نچلی سطح کے طبی مراکز کو مضبوط کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ طبی آلات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے عوام اور منتخب نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیوٹی نہ دینے والے ڈاکٹروں اور اساتذہ کی نشاندہی کریں اور واضح کیا کہ ایسے سرکاری اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی۔ انہوں نے سفارش کلچر ختم کرنے اور میرٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ہر کام میرٹ پر کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی ڈیٹیلمنٹ پر پوسٹنگ ختم کرنے کی ہدایت کی اور تمام گرلز اسکولوں میں واش روم اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ ضلعی حکام کو ہدایت کی کہ 15 دنوں کے اندر تمام سرکاری زمینوں کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کرکے صوبائی حکومت کو پیش کریں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ صوبائی حکومت کی سطح پر کسی بھی سرکاری زمین کی نشاندہی ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جا سکے اور عوامی مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔