فیاض علی نور(مانند نیوز)پشاور پریس کلب کے الیکشن برائے سال 2025 کی تاریخ قریب آتے ہی، ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جس سے صحافتی برادری میں بے چینی اور بے اعتمادی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ انتخابات جہاں ایک طرف صحافیوں کو اپنے حقوق کا استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان الیکشنز میں شامل ممبران کی تعداد اور ان کی حقیقت پر سنگین سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔پچھلیسال 2024 کے الیکشن میں پشاور پریس کلب کے ممبران کی تعداد 522 تھی، جن میں مختلف صحافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، ان مین سے 20 اسائمنٹ رپورٹر، 35 بیورو چیف، 80 کیمرہ مین، 1 کارٹونسٹ، 1 چیف فوٹو گرافر، 1 چیف نیوز ایڈیٹر، 8 چیف رپورٹر، 1 کنٹرولر نیوز، 4 کاپی ایڈیٹر، 7 نمائندگان، 7 کرائم رپورٹر، 4 ایڈیٹرز، 31 فوٹو جرنلسٹس اور 212 رپورٹرز وغیرہ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان ممبران میں سے بیشتر اب کسی بھی میڈیا ادارے سے منسلک نہیں ہیں، اور کچھ تو خود شہر چھوڑ چکے ہیں یا صحافت سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ میڈیا اداروں کی بندش اور ڈاؤن سائزنگ کا اثر ہوا ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے میں، جہاں صحافتی اداروں کی بندش اور ڈاؤن سائزنگ کی وجہ سے صحافیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی، وہیں ان ممبران کی فہرست میں موجود افراد کی اکثریت اب کسی بھی ادارے کے ساتھ جڑی نہیں ہے۔ اس کے باوجود، ان افراد کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہے اور وہ پریس کلب کے انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ ان ممبران کی اکثریت اب صحافت سے منسلک نہیں ہے اور ان کے پاس کسی بھی قسم کا حقیقی صحافتی تجربہ نہیں ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان ممبران کو ووٹر لسٹ میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے جو کہ اب صحافتی اداروں سے جڑے نہیں ہیں؟ کیا یہ ووٹر لسٹ شفاف ہے یا یہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے مخصوص افراد کی طرف سے کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ یہ ووٹر لسٹ، جو کہ بظاہر صحافیوں کے حق میں بنائی گئی ہے، اب ایک شکوک و شبہات کا شکار ہو چکی ہے۔ اس میں شامل غیر فعال اور سابقہ ممبران کی موجودگی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کہیں نہ کہیں اس لسٹ کی حقیقت چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایک مخصوص گروہ انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکے۔پشاور پریس کلب کے انتخابات پر ایک اور سنجیدہ سوال یہ ہے کہ ایک خاص مافیا گروہ کلب کے انتخابات کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف انتخابات کے نتائج کو اپنے حق میں پلٹنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ صحافتی برادری کے اندر ایک تقسیم بھی پیدا کر رہا ہے۔ ان افراد کی اکثریت جو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آگے آ رہے ہیں، وہ دراصل پریس کلب کے انتخابات کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور ان کی نظریں صرف اس بات پر ہیں کہ وہ کلب کے انتخابات کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ کریں۔پشاور پریس کلب کے الیکشن کی صورتحال بہت پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایک طرف انتخابات کے لیے کھڑے ہونے والے افراد صحافت سے جڑے نہیں ہیں، دوسری طرف مافیا گروہ ان انتخابات کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان انتخابات میں غیر فعال صحافیوں کی موجودگی اور ان کے ووٹ کا استعمال، ان الیکشنز کی حقیقت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ آیا پشاور پریس کلب کے انتخابات میں حقیقی صحافیوں کی نمائندگی ہو رہی ہے یا یہ صرف ایک انتخابی کھیل بن چکا ہے جہاں صرف ایک مخصوص گروہ کی خواہشات کو پورا کیا جا رہا ہے؟ انتخابات کی اصل حقیقت اس وقت سامنے آئے گی جب صحافیوں کے درمیان شفافیت اور انصاف کا ماحول پیدا ہوگا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پشاور پریس کلب کے انتخابات میں نہ صرف صحافتی معیار متاثر ہوگا بلکہ اس کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔