پشاور(مانند نیوز) ورلڈ ملیریا ڈے کے موقع پر محکمہ صحت مردان کے زیر اہتمام ایک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران، ہیلتھ ورکرز، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ واک کا مقصد عوام میں ملیریا جیسے خطرناک اور متعدی مرض سے بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔آگاہی واک میں ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر صادق شاہ، ڈاکٹر روبینہ ریاض (پبلک ہیلتھ کوآرڈینیٹر)، ڈاکٹر صباوون خان (ڈسٹرکٹ ملیریا ماسٹر ٹرینر و سرویلنس آفیسر)، ڈاکٹر فرحان اکرم (LHW کوآرڈینیٹر)، منصور خان (ڈسٹرکٹ ملیریا سپروائزر)، محمد افضال (میڈیکل اینٹامالوجسٹ)، محمد عارف جان (ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر FPHC ملیریا کنٹرول پروگرام) اور حضرت حسین (میل آفیسر IHHN) سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر صادق شاہ نے کہا کہ ہر سال 25 اپریل کو دنیا بھر میں ورلڈ ملیریا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ عوام کو اس مہلک بیماری سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا ایک خطرناک متعدی مرض ہے جس سے دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں افراد متاثر ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ بیماری ایک سنگین صحت مسئلہ بن چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مردان میں 21 اپریل سے 25 اپریل تک “ملیریا ویک” فرنٹیر پرائمری ہیلتھ کیئر (FPHC) اور انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے منایا گیا۔ اس دوران محکمہ صحت کے عملے، لیڈی ہیلتھ ورکرز، علماء کرام، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے سکولوں، کالجوں، مساجد، صحت مراکز اور مختلف کمیونٹیز میں آگاہی سیشنز منعقد کیے تاکہ عوام کو ملیریا سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ڈاکٹر روبینہ ریاض نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی کے ذریعے ملیریا جیسے متعدی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھے اور ملیریا کنٹرول مہم میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر FPHC محمد عارف جان نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران ضلع مردان میں ملیریا کے 214,660 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 15,758 کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع مردان میں ملیریا کی بروقت تشخیص اور مفت علاج کے لیے 113 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مریضوں کو بلا معاوضہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور بخار کی صورت میں فوری طور پر قریبی مرکز صحت سے رجوع کریں۔
0





