اسلام آباد (مانند نیوز) عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی آئل ٹینکر پر نامعلوم میزائل نما شے سے حملے کے بعد لگنے والی آگ کے معاملے پر امریکی حکام نے ایران پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق 2 امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کم از کم 2 میزائل داغے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایک اور تجارتی جہاز بھی حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکا کی حمایت سے عمانی سمندری حدود میں ایک نئے بحری راہداری منصوبے کا اعلان کیا گیا۔
اس منصوبے کی ایران نے مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ 17 جون کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے غیر مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطری آئل ٹینکر امریکی بحریہ کی معاونت سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بار بار خبردار کرنے کے باوجود راستہ تبدیل نہ کرنے پر نشانہ بنایا، تاہم اس واقعے کی تاحال کسی ایرانی سرکاری عہدیدار نے تصدیق یا تردید نہیں کی۔