پشاور (مانند نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، لیکن جب بھی صوبے کے آئینی حقوق کی بات آتی ہے تو وسائل کی کمی کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد سے متعلق ہر معاملے پر اپوزیشن، حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے دلیل، آئین اور قانون کے مطابق مؤثر آواز بلند کرنا ہوگی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاور میں ہری پور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے زیر اہتمام منعقدہ فرسٹ اچیومنٹ ایوارڈز 2026 کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایران کے قونصل جنرل علی بنفشہ خواہ، ہری پور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین سید احمد جان، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف، سید احمد سکندر، حاجی عطاء الرحمن ہری پور چیمبر کے دیگر عہدیداران، صنعتکاروں، تاجر برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران ملکی معیشت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے تاجروں میں اچیومنٹ ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ اپنے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایوارڈ حاصل کرنے والے تاجروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور ہر ممکن تعاون کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں تاجر اور کسان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں اور تاجر برادری کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو ملک کو بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں تو وہاں کے تاجروں کو بھی ملک کے دیگر حصوں کے تاجروں کے مساوی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے، مگر ان وسائل سے بھرپور استفادہ نہیں کیا گیا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو وسیع اختیارات حاصل ہوئے، تاہم ان سے مؤثر انداز میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے سو ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا، جبکہ وفاق پر ان اضلاع کے ڈھائی سو ارب روپے سے زائد واجبات بھی بقایا ہیں۔ ماضی میں ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کے معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومت ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ گیس اور تیل پیدا کرنے والا صوبہ ہے، لیکن یہاں ایک بھی آئل ریفائنری موجود نہیں۔ اسی طرح صوبے کو گندم اور پانی میں بھی اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ اگر خیبرپختونخوا کو پانی کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے تو یہ صوبہ پورے پاکستان کی گندم کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گورنر نے کہا کہ وفاق سے صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کے حصول کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے صوبیمیں واپڈا کی 14 ہزار خالی آسامیوں پر جلد بھرتیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے وہ وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا چار روز میں مؤثر اور بھرپور جواب دے کر دنیا پر ثابت کیا کہ پاکستان ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر تاجر برادری کے نمائندوں نے گورنر خیبرپختونخوا کو اپنے درپیش مسائل، تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا، جبکہ گورنر نے ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔#