اسلام آباد (مانند نیوز) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹ کام کا کہنا ہے کہاس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ان ایران نواز گروہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مشرقی عراق میں دہشت گردوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی آئی آر جی سی کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد فضائی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی آر جی سی کی جانب سے کیے گئے حملے بلاجواز تھے جو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
سینٹ کام کے مطابق فروری سے اپریل کے درمیان عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی شہریوں اور تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں کی کوشش کی۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئی آر جی سی اور اس کے پراکسی گروہوں کو یہ حملے بند کرنا ہوں گے، بصورتِ دیگر امریکا مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
عراق میں امریکا کیساتھ مشترکہ حملے حقِ دفاع کے تحت کیے: سعودی عرب
ادھر سعودی عرب نے بھی عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر حملوں کی تصدیق کر دی۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی۔
وزارت کے مطابق جوابی کارروائی بین الاقوامی قانونن کے تحت حاصل حقِ دفاع کی بنیاد پر کی گئی۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب مزید کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اگر مستقبل میں اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ اپنی خود مختاری، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
امریکی سعودی حملوں میں عراق کی حشد الشعبی کے 20 اہلکار ہلاک
عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔
پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) جسے حشد الشعبی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے، جن میں سے متعدد گروہ ایران سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
حشد الشعبی کے عہدیدار کے مطابق امریکی سعودی حملوں میں سب سے بڑا حملہ شمالی صوبے نینوا میں ہوا، جنوبی عراقی صوبے بصریٰ میں بھی پی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
حشد الشعبی کے ذرائع کے مطابق عراق کے 7 صوبوں میں امریکی و سعودی مشترکہ فضائی حملوں میں 20 اہلکار مارے گئے، جبکہ ان حملوں میں 30 سے زائد جنگجو زخمی بھی ہوئے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔ عراق سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی عرب پر دیگر ممالک سے کیے گئے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔