وانا (مانند نیوز ) ماں کے دودھ کی اہمیت، افادیت اور نومولود بچوں کی بہتر نشوونما کے حوالے سے عالمی ہفتہ آگاہی کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے آڈیٹوریم ہال میں یونیسیف کے تعاون سے آئی این پی کے (INP KP) نے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، اور ساتھ ہی ساتھ ریلی بھی نکالی گئی۔ جسمیں بچوں کو چھ ماہ تک دودھ پلانا لازمی قرار دیا گیا ہے ،  سیمینار میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان لوئر ڈاکٹر عدنان داوڑ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عرفان وزیر، ڈی ایم ایس ڈاکٹر نواز خان، نیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر زین العابدین وزیر ، ڈسٹرکٹ نیوٹریشن منیجر وارث خان وزیر سمیت محکمہ صحت کے دیگر ڈاکٹرز، علماء کرام، سماجی شخصیات، طبی عملے، مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زین العابدین وزیر نے کہا کہ ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہترین اور مکمل غذا ہے، جو بچے کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ تک بچوں کو ماں کا دودھ پلانا لازمی ہے، انہوں نے کہا کہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں کا دودھ پلانے سے نہ صرف اس کی قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے بلکہ متعدد خطرناک بیماریوں سے بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نومولود کو زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جانا چاہیے، جبکہ دو سال یا اس سے زائد عرصے تک مناسب اضافی غذا کے ساتھ دودھ پلانے کا سلسلہ جاری رکھنا بچے کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔اس موقع پر ڈی ایم ایس ڈاکٹر نواز خان نے کہا کہ ماں کا دودھ صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدہ کی صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ اس سے زچگی کے بعد صحت کی بحالی میں مدد ملتی ہے، بعض بیماریوں کے خطرات میں کمی آتی ہے اور ماں اور بچے کے درمیان محبت و جذباتی وابستگی مزید مضبوط ہوتی ہے۔تقریب سے  مفتی صلاح الدین  نے خطاب کرتے ہوئے کہا،کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے سے خود اعتمادی اور بچے کی شخصیت نکھر جاتی ہے،30 ماہ تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی اسلام نے جائز قرار دیا ہے،وارث خان وزیر نے کہا کہ ماں کے دودھ کی افادیت پر مفصل روشنی ڈالی، سب نے بچے کی پیدائش کے ادھے گھنٹے تک ماں کا دودھ پلانا اور سب نے چھ ماہ تک بچے کو ماں کا دودھ پلانا لازمی قرار دیا،حتی کہ اس دوران بچے کو پانی تک نہ پلایا جائے،باور چھ ماہ کے بعد ماں دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو نرم خوراک بھی کھلا سکتا ہے، جو کہ دو سال تک ماں دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو نرم غذاء کھلا اور پلاسکتی ہے، تاکہ بچے کی صحیح نشوونما ہوسکے،اور ان کو مختلف بیماریوں سے بچایا جا سکے، اس دوران ماں کے دودھ کی افادیت اور آگاہی کے حوالے سے شرکاء نے واک بھی کی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان لوئر ڈاکٹر عدنان داوڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ صحت ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کے دودھ کی اہمیت سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات، سیمینارز اور طبی مراکز میں مشاورتی پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ہر ماں اس قدرتی نعمت کی اہمیت سے آگاہ ہو اور بچوں کو صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے والدین، علماء کرام، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ بچوں میں غذائی قلت اور مختلف بیماریوں کی شرح کو کم کیا جا سکے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے ماں کے دودھ کے فروغ اور ماں و بچے کی بہتر صحت کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے