پشاور (مانند نیوز ڈیسک) غیر سرکاری تنظیم ڈی سی ایچ ڈی مردان کی پروگرام کوارڈنیٹر نصرت آراء نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد اور ہراسمنٹ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کیلئے سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں غیر سر کاری تنظیم شرکت گاہ کی تعاون سے ڈی سی ایچ ڈی کے زیر اہتمام خواتین بارے مثبت رپورٹنگ کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے کیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے زیادہ رپورٹ درج نہیں ہو تے جس کی وجہ سے صنفی تشدد میں اضافہ ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ بطور مسلمان ہمیں تو ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی اپنے حقوق مل گئے تھے ہمیں وراثت کا حق دین اسلام نے دیا مگر آج صورتحال یہ ہے کہ بیٹوں کو تو وراثت میں حق دے دیا جاتا ہے مگر بیٹی کو نہیں دیا جاتا، بھائی بھی بہن کو حصہ دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے جو افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے متعلق سے خبریں عمومی طور پر تشدد یا جرائم کے معاملے میں ہی آتی ہیں۔ میڈیا میں خواتین کی کم نمائندگی کے باعث بہتر رپورٹنگ نہیں ہوپاتی۔ اسے بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، خواتین کے مسائل پر رپورٹنگ کے تعلق سے حساس رویہ اختیار کرے،انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ میڈیا کی ترقی میں خواتین کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا مرد صحافیوں کا۔ خواتین مثبت طریقے سے میڈیا کے ذریعے معاشرے کے مسائل دنیا کے سامنے لاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو خواتین اپنی جنس کے مسائل بھی بہتر طریقے سے میڈیا پر اجاگر کرتی ہیں، مثلاً غیرت کے نام پر قتل، خواتین پر حملے، کم عمر کی شادیاں، گھریلو تشدد کے واقعات، اور جہیز کے مسائل وغیرہ۔ ان مسائل پر خواتین میں ہمدردی کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ سب ایسے واقعات ہیں جن پر خواتین، مردوں کے مقابلے میں بہتر طریقے سے رپورٹ کر سکتی ہیں۔ترقی کے اس دور میں خواتین کو معاشرتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ میڈیا ہو یا کوئی بھی شعبہ، خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر ہر طوفان کا سامنا کرنا ہے۔ جب کام کی بات ہو تو مرد اور عورت، ہم سب کو ایک ہونا چاہئے اور کسی بھی تفریق کے بغیر کام کرنا چاہئے۔ یہی ایک پڑھے لکھے معاشرے کی پہچان ہے۔انہوں نے کہا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سو شل میڈیا انتہائی اہم ٹول ہے، اس کے ذریعے وسیع پیمانے پر لوگوں کو آگاہی دینے سے خواتین کے مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ خواتین پر تشدد کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور قانون ساز اداروں سمیت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔