کراچی( مانند نیوز) پاکستان بزنس فورم نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نظام پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لیا جائے، کیونکہ اس پالیسی نے کاروباری برادری، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عام عوام کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے فارمولے نے کاروباری سرگرمیوں کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ صنعتکار، تاجر، برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹرز اپنی پیداواری لاگت، قیمتوں کے تعین، سپلائی چین اور کاروباری منصوبہ بندی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی من مانے اضافے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ تاجر اور ٹرانسپورٹرز مستقبل میں ممکنہ اضافے کو بنیاد بنا کر صارفین سے اضافی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہری پر پڑ رہا ہے۔ فورم نے نشاندہی کی کہ صرف پانچ دنوں میں پٹرول کی قیمت میں 24 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا چکا ہے، جس سے نہ صرف عوام بلکہ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور تجارتی شعبے پر بھی اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔خواجہ محبوب الرحمن نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کی ذمہ داری عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوتی ہے، نہ کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے ہر اتار چڑھاؤ کا مکمل بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو اس وقت استحکام، اعتماد اور واضح معاشی سمت کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ پالیسی اس کے برعکس غیر یقینی صورتحال کو فروغ دے رہی ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "وزیراعظم صاحب! آپ کی فوری مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ کاروباری برادری اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام کو ختم کر کے ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی نظام متعارف کرائیں گے۔”پاکستان بزنس فورم نے حکومت کو تجویز دی کہ پٹرولیم لیوی کو 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مساوی فی لیٹر مقرر کیا جائے تاکہ قیمتوں میں اچانک اور غیر متوقع اضافے سے عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔فورم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے فی لیٹر مارجن پر بھی نظرِ ثانی کرتے ہوئے اس میں کمی کی جائے تاکہ صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ صدر پاکستان بزنس فورم نے پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں کسی بھی اضافے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلرز کو پہلے ہی فی لیٹر 8 روپے سے زائد مارجن حاصل ہے، جو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں کافی ہے۔ مزید اضافہ نہ صرف عوام پر اضافی بوجھ ڈالے گا بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ کرے گا۔خواجہ محبوب الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر وزارتِ پٹرولیم پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن یا دیگر چارجز میں اضافے سے متعلق کوئی سمری وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے تو حکومت اس کا مالی بوجھ ہرگز عوام پر منتقل نہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک حقیقت ہے، لیکن ہر بیرونی جھٹکے کا بوجھ بلاواسطہ عوام پر ڈالنا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی پالیسی۔ حکومت، جہاں ممکن ہو، ایسے اثرات کو خود برداشت کرے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور عوام کو غیر ضروری مہنگائی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔