لاہور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان میں چینلج سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے، اسٹیٹس کو کسی بھی نظام کو بدلنے میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، تبدیلی میں وقت لگتا ہے،پاکستان کوریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق فلاحی مملکت میں تبدیل کریں گے۔وہ جمعہ کو لاہورمیں نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے تحت ایل ڈی اے سٹی میں اپارٹمنٹس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نیا پاکستا ن منصوبے سے متعلق قانون پاس کرنے میں 2 سال لگے، مورگیج فنانسنگ صفر اعشاریہ دو فیصد تھی، منصوبے سے متعلق قانون پاس نہ ہوتا تو بینک پیسے نہ دیتے، قانون پاس کرنے پر عدلیہ کا مشکور ہوں۔ انہوں نے کہاکہ غریب اور محدود آمدن والے لوگوں کے لئے کم قیمت گھروں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے رہن رکھنے کے قانون کی منظوری کے بعد قرض حاصل کرنے کی ضمانت کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔عمران خان نے تعمیرات کے شعبے میں سرگرمیوں میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ سیمنٹ کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔، تعمیراتی شعبہ چل چکا ہے، اس سے جڑی مزید صنعتیں بھی چل پڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولتوں کی یکساں فراہمی کے لئے مصروف عمل ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ پناہ گاہوں اور کوئی بھوکا نہ سوئے سکیم کو پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مخصوص اعانت کے بڑے منصوبے کورواں برس جون میں غربت سروے مکمل ہونے کے بعد شروع کیاجائے گا، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پرانا اسٹیٹس کو تبدیلی نہیں آنے دیتا، اسٹیٹس کو نظام میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گا تو پیسہ کیسے بنائے گا، بدقسمتی سے ہم نے اپنی آنکھوں سے سسٹم کو خراب ہوتے دیکھا ہے، نظام بن گیا کہ رشوت دو تو کام ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی لانے کے لیے وژن، عزم اور ارادہ درکار ہوتا ہے، جب آپ تبدیلی لا رہے ہوتے ہیں تو اس میں وقت لگتا ہے کیونکہ یہ مشکل کام ہوتا ہے۔وزیراعظم نے چیئرمین ایل ڈی اے عمران منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ادارے میں بڑی تبدیلی لائے ہیں، ایل ڈی اے میں آٹو میشن متعارف کروایا۔ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانی اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے آٹومیشن ضروری ہے، سارے سسٹم میں اور ہر ادارے میں آٹومیشن کی بڑی مزاحمت کی جاتی ہے، نظام میں آٹومیشن آتے ہی رشوت خودبخود ختم ہو جاتی ہے کیونکہ مشینیں رشوت نہیں لیتیں۔وزیر اعظم نے پاکستان کوریاست مدینہ کی قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق فلاحی مملکت میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مدینے کی ریاست کہاں ہے، لوگوں سے کہتا ہوں مدینہ کی ریاست کی بنیاد 2 اصولوں پر مبنی ہے، قانون کی بالادستی اور دوسرا ریاست کا فلاحی کردارہے، مدینے کی ریاست میں قانون کی بالادستی تھی، طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں نظام قانون سے ہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، ہم بڑے بڑے مافیاز کو قانون کے نیچے لا رہے ہیں، کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے، بڑے بڑے سیاسی مافیا ز قانون کی بالادستی کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں، پاکستان میں آج قانون کی بالادستی کی جنگ چل رہی ہے۔نئے پاکستان کے لیے ماڈل مدینہ کی ریاست ہے،بڑے بڑے مافیاز کو پہلی دفعہ قانون کے تابع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بڑے بڑے سیاسی مافیاز قانون کی بالادستی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا یہ اصل میں پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، ان شا اللہ جیسے ہی ہم قانون کی بالادستی قائم کریں گے، معاشرہ آزاد ہو جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینلج سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی سسٹم میں برائی، کرپشن اور رکاوٹیں آجاتی ہیں تو تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ، پناہ گاہ اور کوئی بھوکا نہ سوئے ہماری فلاحی اسکیمیں ہیں، ملک میں سب سے زیادہ غربت خیبرپختونخوا میں کم ہوئی ہے، 6 سال کے دوران کے پی کے میں ناصرف غربت کم ہوئی بلکہ انسانوں پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی، پنجاب بھر میں ہر شہری کو صحت کارڈ ملے گا، کوئی بھوکا نہ سوئے کاپراجیکٹ پورے ملک میں پھیلایاجائے گا۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان ایوان وزیراعلی پنجاب پہنچے، جہاں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے صوبے کے انتظامی اورسیاسی معاملات پر وزیراعظم کو بریفنگ دی، اور بتایا کہ پنجاب میں تمام اضلاع کیلئے ترقیاتی پیکیجز دیئے جارہے ہیں، پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی طور پر توجہ دے جارہی ہے۔وزیراعلی نے بتایا کہ مہنگائی کے خاتمے کے لئے حکومتی اقدامات کے ساتھ وزرا کو بھی ٹاسک سونپے ہیں، رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ سستی فراہم کرنے کے لئے پیکیج دے رہے ہیں، رمضان المبارک میں عوام کو 2018کی قیمتوں پر اشیاکی فراہمی کی جائیگی، تعلیم،صحت، ہاوسنگ سمیت تمام اہم شعبوں میں اقدامات کیے جارہے ہیں، کورونا کے حو الے سے صوبہ بھر میں سنٹر ز بنا کر ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔کورونا سے حوالے سے حکومت پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں اورعوامی ریلیف کے عمل کوتیز کیاجائے، اور ہاوسنگ کے شعبے میں کام کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھی جائے۔