اسلام آباد،لاہور،کراچی (مانند نیوز ڈیسک) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں شروع ہونے والا احتجاج بدھ کو تیسرے روز بھی جاری رہا،متعدد شہروں میں دھرنے ختم جبکہ بعض جگہوں پر جھڑپیں بھی ہو گئیں،متعدد افراد زخمی ہو گئے۔سیف سٹیز اتھارٹی لاہور کے مطابق شہر میں کرول گھاٹی سے رنگ رڈ، بتی چوک سے محمود بوٹی رنگ روڈ، شنگھائی پل، کماہاں روڈ، چونگی امر سدھو، موہلنوال، بھٹہ چوک، سکیم موڑ، یتیم خانہ چوک، مانگا منڈی ملتان روڈ، داروغہ والا جانب نیازی شہید روڈ، کچا جیل روڈ اور پلی ون وے، شاد باغ، نیشنل ہائی وے چوہنگ، موہلنوال، مراکہ، موہلنوال بائی پاس سے احتجاج کی وجہ سے بند رہے۔دوسری جانب، ڈی سی لاہور نے کہا کہ ٹھوکر نیاز بیگ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور ملتان روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت جاری، داتا صاحب، راوی پل، والٹن چوک، محافظ ٹاون اور جوڑے پل کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، اچھرہ بازار، جی پی او چوک اور نواز شریف انٹر چینج کو بھی کلئیر کر دیا گیا ہے۔۔ لاہور کی مرکزی شاہراہیں اور راستے بدستور بند رہیں جبکہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی ٹریفک معمول سے کم ہے۔لاہور میں پولیس، رینجرز اور ڈولفن فورس مستقل گشت کررہی جس کی وجہ سے شہر کے اندر صورتحال قابو میں رہی لیکن شہر سے باہر مضافات کے علاقوں میں تحریک لبیک کے کارکنان کا دھرنا جاری رہا۔سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے مطابق شہر کے مضافاتی علاقے آریان پنڈ رائیونڈ روڈ کو صبح سویرے مظاہرین نے بند کردیا تھا تاہم مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد اس سڑک کو کھول دیا گیا اور اب وہاں ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔دوسری جانب کراچی میں ٹریفک کی صورتحال گذشتہ روز کے مقابلے میں کافی بہتر نظر آئی۔ راولپنڈی میٹرو بس ٹریک میدان جنگ بن گیا ہے، اور رینجرز اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، فورسز کی جانب سے شدید شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال ہورہا ہے، رینجرز نے میٹرو ٹریک پر مظاہرین کو دونوں جانب سے گھیر کر لاٹھی چارج کیا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے، رینجرز نے میٹرو ٹریک کا قبضہ حاصل کرکے متعدد افراد کو گرفتار لیا، جس کے بعد مری روڈ پر مظاہرین نے متعدد املاک کو آگ لگا دی، لیاقت باغ چوک کا کنٹرول 2 روز سے مظاہرین کے پاس تھا، جسے رینجرز نے خالی کرالیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ٹیکسلا کے مقام پر پولیس اور دھرنا شرکاء میں جھڑپیں اور پتھراو سے 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس کی بھاری نفری ٹیکسلا انڈر پاس کے اردگرد موجود ہے۔ کوٹلی آزاد کشمیر میں بھی تحریک لبیک کے کارکنوں کا شہید چوک پر دھرنا جاری رہا، مظاہرین نے شہید چوک پر ہی سحری کا انتظام کیا۔کراچی ٹریفک پولیس نے کہا کہ حب ریور روڈ اور ناردرن بائی پاس پر احتجاجی مظاہرہ ختم ہوگیا ہے اور اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈرگ روڈ اور سٹار گیٹ پر بھی جاری دھرنا ختم ہوگیا جس کے باعث سڑکیں کھول دی گئیں اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق جاری رہی۔پولیس کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ چوک میں مذہبی جماعت کے کارکن موجود ہیں، جس کی وجہ سے فیض آباد انٹر چینج ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ راولپنڈی میں کمیٹی چوک سے مریڑ چوک تک مری روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند رہے۔ ایکسپریس وے ٹریفک کے لیے کھلا ہوا ہے جبکہ بند سڑکوں کے متبادل روٹ پر ٹریفک رواں دواں رہی۔ادھر خانیوال میں مذہبی جماعت کا لاہور موڑ پر احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا۔خانیوال میں سڑک کے دونوں اطراف ٹریلر کھڑے کر کے ملتان لاہور روڈ کو بلاک کئے رکھا،البتہ چھوٹی گاڑیوں کو متبادل راستے سے گزارا گیا،کبیر والا میں مذہبی جماعت نے احتجاج ختم کر دیا جس کے بعد ملتان روڈ ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ساہیوال میں بھی ترجمان پولیس نے کہا کہ قومی شاہراہ کو 24 گھنٹے کے بعد مظاہرین کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے کھلوا لیا، اس دوران مظاہرین کے پتھراؤ سے 1 ایس پی، اور دو ڈی ایس پیز سمیت 51 پولیس افسران و اہلکاران زخمی ہوئے، جنہیں ہسپتا ل منتقل کردیا گیا۔ تلہ گنگ میں بھی بین الصوبائی شاہراہ پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں جاری ہیں اور پولیس اہلکار کے خلاف آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔ملتان پولیس کے مطابق شہر کی مختلف شاہراہوں پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں جاری رہیں تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرکے دھرنا ختم کرادیا ہے اور تمام شاہراہیں معمول کے مطابق کھل گئی ہیں۔