جمرود (مانند نیوز ڈیسک) ضلع خیبر کی تحصیل جمرودمیں سرکاری آٹے کی روزانہ کی بنیادپر ایک ہزارتھیلے آتے ہیں جس میں سے 400تھیلے تقسیم ہوتے ہیں جبکہ 600تھیلے بلیک میں فروخت ہورہے ہیں اس ماہ رمضان میں غریب لوگ لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکراور انتظارکرنے کے باوجودبھی خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ملک پرویز نے میڈیا کو بتایا کہ جن بااثرافراد کو سرکاری آٹے کی پرمٹ جاری کئے ہیں وہ سرکاری آٹا بلیک میں فروخت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سرکاری آٹے کا تقسیم کارتپوں پر ہوا کرتا تھا جو ایک منصفانہ طریقہ کارتھااور ہر غریب کو اپنا حق ملتا تھالیکن اب کچھ افرادنے اثرورسوخ استعمال کرکے پرمٹس اپنے نام کرلیئے ہیں اور وہ اپنی مرضی ریٹ پر اوربلیک میں فروخت کررہے ہیں۔ جو کہ یہاں کی عوام کے ساتھ سراسرظلم اورناانصافی ہیں۔جبکہ اس کے علاوہ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری جہانگیراعظم وزیر نے بھی جمرودبازارکا اچانک دورہ کیا لیکن ان کی طرف سے جمرودعوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہیں کہ جمرودمیں جن بااثرافرادکے پاس سرکاری آٹے کی پرمٹس ہیں ان پر پابندی لگائی جائے اورکوکی خیل قوم کے زیلی تپوں پر تقسیم کارکا پرانا طریقہ پرمنظوری دی جائے۔