نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) اضاخیل میں تین سالہ بچے کی گمشدگی اور لاش کی برآمدگی، بچے کے ماموں سردار علی شاہ نے سنجیدہ سوالات اٹھادئے، بچہ گزشتہ روز سرشام دکان سے ٹافیالینے گیا اور واپس نہ آیا، شب بھر تلاش کیا تاھم نہ ملا اور صبح سویرے گھر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر اسکی لاش پڑی ملی، اضاخیل پولیس نے اطلاع ملنے پر لاش پبی ھسپتال پہنچادی،پوسٹ مارٹم رپورٹ چند دن میں آنے کی توقع، تین سالہ بچے کے ماموں سردار علی سکنہ اضاخیل نینماز جنازہ کے موقع پر میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بچے نے افطاری سے چند لمحے قبل والدہ سے دس روپے لئے اور دکان چلا، بعد میں دیر تک گھر نہ آنے پر ہم نے اپنے گاؤں کے لوگوں کے ھمراہ تلاش کیا لیکن کہیں بھی نہ ملا،صبح سویرے گاؤں سے باھر واپڈا گرڈ سٹیشن پر تعینات ایف سی کے ایک کانسٹیبل نے گاؤں گو اطلاع دی کہ برساتی نالے میں کسی بچے کی لاش پڑی ہے اس پر ہم نے پولیس کو رپورٹ کردی پولیس نے لاش ہسپتال پہنچادی جہاں پوسٹ مارٹم کردی گئی ہے تاھم ابھی رپورٹ نہیں آئی، سردار علی شاہ کے مطابق بچے کی جسم پر تشدد کے واضح نشانات نہیں تاھم ھمیں جو چیز شک میں ڈالے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ تین سالہ بچے نے اتنا بڑا فاصلہ کیسے طے کیا،اس لئے کہتے ہیں کہ دال میں کالا ضرور ہے، اس حوالے سے پولیس کی جانب سے بھی ایک وضاحتی بیان جاری کی گئی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ بچے پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہوا اور اسکی ھلاکت برساتی نالے میں گرنے سے ہوئی ہے، واضح رھے کہ بچے کے گھر اور لاش ملنے کی جگہ کا فاصلہ تین سے ساڑھے تین کلومیٹر ہے تاھم اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔