اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے کیس میں پی ٹی اے سے 23اگست تک رپورٹ طلب کر لی۔ ہفتہ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر 6صفحات کا عبوری تحریری حکم جاری کردیا جس میں سوشل میڈیا ایپ پر پابندی سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔عدالتی فیصلے میں سندھ ہائیکورٹ میں پی ٹی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس میں پی ٹی اے کی جانب سے ایک فیصد ٹک ٹاکرز کے قابل اعتراض مواد کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی کا انکشاف ہوا ہے، پی ٹی اے نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ 99 فیصد ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، صرف ایک فیصد ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز میں قابل اعتراض مواد ہے۔اسلا م آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کو پی ٹی اے نے بتایا ایک کروڑ 65 لاکھ پاکستانی ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں، ایک فیصد یا چند ٹک ٹاکر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کر رہے ہیں، پی ٹی اے خود سندھ اور پشاور ہائی کورٹس میں کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی جواز نہیں، پی ٹی اے نے تسلیم کیا ٹک ٹاک کے فوائد زیادہ اور نقصانات کم ہیں، ٹک ٹاک ایپ زیادہ تر معاشرے کی پسماندہ طبقے کی کمائی کا ذریعہ ہے، عدالتی حکم نامے پڑھنے کے بعد واضح ہوا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی حکم نہیں دیا گیا، پی ٹی اے وکیل عدالت کو مطمئن نا کر سکے کہ ٹک ٹاک پر پابندی کیوں لگائی؟۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے سے 23 اگست تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکرٹری آئی ٹی رپورٹ دیں کہ چند یوزرز کی خلاف ورزی کی وجہ سے معروف ایپس پر پابندی کی حکومتی پالیسی کیا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے