پاراچنار (مانند نیوز ڈیسک) پاراچنار میں احتجاجی ریلی کے بعد احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ،شعراء، طلبہ اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں علامہ مزمل حسین، شفیق مطہری، نوشی بنگش، صابر بنگش ، عنایت علی ، مظہر طوری، میر افضل خان طوری اور دیگر نے کہا کہ پاراچنار شہر میں قبائلی اضلاع کی قدیم پبلک لائبریری جس میں دنیا کے نایاب کتب موجود ہیں ۔ عمارت کے اندر ضلعی انتظامیہ مختلف محکموں کے افسران کے رہائش و دفتر کیلئے تعمیرات شروع کئے ہیں جسے لائبریری کے فرنیچر کو نقصان پہنچا ہے اور لائبریری سے کتابیں غائب ہیں ۔ راہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ سال پاک فوج نے لائبریری کو فعال بنانے کی کوشش کی تھی مگر حالیہ اقدام لائبریری کے قتل کے مترادف ہے ۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ لائبریری کے عمارت کے اندر تعمیرات کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ اور لائبریری کو فعال بنایا جائے ۔ اور حسب وعدہ لائبریری کو ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کیا جائے ۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ کسی صورت لائبریری کی بندش برداشت نہیں کریں گے اسلئے متعلقہ حکام سنجیدگی سے اس اہم مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔