سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات یونیورسٹی کی پالیسی اورفیسوں کے خلاف ڈگری کالج کبل کے طلبہ سراپا احتجاج۔ سڑکوں پر نکل آئے۔کبل چوک میں مظاہرہ کیا۔یونیورسٹی کی غلط پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی۔ مظاہرے نے ہاتھوں میں پلے کارڈزاٹھارکھے تھے جس پرسوات یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ان خیالات کا اظہار ڈگری کالج کبل کے طلباء فضل وہاب، عمررحمن، ہلال، موسیٰ خان، مروت علی و دیگرکیا۔ سوات یونیورسٹی کی بے تحاشا امتحانی فیسوں کے خلاف ڈگری کالج کبل کے طلبہ و طالبات صوبائی حکومت سے مطالبات منوانے سڑکوں پر نکل آئے۔مظاہرے کی قیادت کرنے والے قائدین نے کہاکہ سوات یونیورسٹی کی پالیسی کسی بھی صورت قبول نہیں۔100میں 100نمبرات لینے پر 4GPA ملنا نامنظور ہے۔امتحانات کیلئے 12ہزار سے 15ہزار تک فیسیں لینے کے ہر گز متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ کالج میں پڑھنے والے زیادہ تر طلبہ غریب ہیں جو فیسیں بھرنے کے قابل نہیں ہیں۔ زیادہ تر طلبہ کلاسز کی چھٹی کے بعد دکانوں میں کام کرتے ہیں یا دیہاڑی کرتے ہیں جس سے وہ اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان کیلئے فیسیں بھرنا بالکل ناممکن ہیں۔یونیورسٹی ہمارے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک شروع کرنے لگی ہے۔یہ سرکاری ادارے ہیں اور سرکاری ادارے پہلے ہی ہمارے جیب سے نکالے پیسوں سے چل رہے ہیں۔یہ ادارے مزید ہمارا استحصال نہ کریں۔غریب طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند نہ کریں۔ایسے ظالمانہ فیصلوں کے نفاذ سے 95%طلبہ و طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر سوات یونیورسٹی کی پالیسی کے خلاف اور وزیراعلیٰ محمود خان اور وفاقی وزیر مراد سعید سے کردار اداکرنے کرنے کے مطالبات درج تھے۔مقررین نے آخر میں کہاکہ ایک ہفتہ کے اندر اندر ظالمانہ فیصلے واپس لئے جائیں اور مطالبات مان لئے جائیں بصورت دیگر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور بھر پور مظاہرے کرینگے ۔