تخت بھائی (مانند نیوز ڈیسک) حالیہ روبیلا اور میزل کمپین میں ڈیوٹی سر انجام دینے والی ہیلتھ ورکرز اور ایل ایچ ڈبلیوز اپنی اعزازیہ وصول کرنے کے لئے متعلقہ بینکوں کے سامنے ذلیل اور خوار ہوگئے اور دکھے کھانے پڑے۔ اس سلسلے میں ایل ایچ ڈبلیوز یاسمین بی بی، اخترہ بی بی، ناصرہ بی بی، صفیہ بی بی،گلزارہ بی بی اور دیگر درجنوں ہیلتھ ورکرز نے ایم سی بی بینک تخت بھائی کی عملے کی رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرت ہوئے انکا موقف تھا کہ ہم نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی احکامات کی روشنی میں 15 نومبر سے 27 نومبر تک جاری روبیلا اور میزل کمپین میں اپنی ڈیوٹی انتہائی ایمانداری کے ساتھ سر انجام دی تھیں تقریبا ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد ورکرز کے اعزازیہ ایم سی بی بینک کے ذریعے وصول کرنے کے لئے گئے تھے انہوں نے مبینہ طور پر الزام لگایا کہ بینک انتظامیہ نے ٹال مٹول سے کام لے کر تمام ہیلتھ ورکرز سے بد کلامی کی اور انتہائی گھٹیاں زبان استعمال کی اور ان کو گھنٹوں تک بینک کے سامنے بارش کے دوران کھڑا کرکے ان کو انتہائی ذلیل کردیا۔ انہوں نے کمشنر مردان ڈویژن سید عبدالجبار شاہ، ڈپٹی کمشنر حبیب اللہ عارف، سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایم سی بی بینک کے ذریعے ہمارے اعزازیہ نہ بھیجے ورنہ ہم اگلی کمپین سے بائیکاٹ کا اعلان کریں گے کیونکہ بینک عملہ کی رویہ انتہائی گھٹیا اور تکبرانہ ہے جس وجہ سے ہماری تذلیل ہوئی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر آئندہ ہمارے اعزازیہ کو ایم سی بی بینک کے ساتھ منسلک کیا گیا تو ہم کمپین میں ڈیوٹی کرنے سے بائیکاٹ کرینگے۔