سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات کبل 220 سالوں سے بچھڑے سید قوم خاندان آخر کار گھل مل گئے۔تنازعات ختم۔ آئندہ بھائیوں کی طرح رہنے کا عزم۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا عہد۔ ضلع باجوڑ سے آئے ہوئے رشتہ دار مہمانوں کا سوات کے علاقہ ڈڈھارہ پارڑئی کے مقام پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مہمانوں اور میزبانوں کی آنکھیں خوشی سے پرنم۔ رقت آمیز مناظر نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔ مہمانوں پر سوات کے مختلف علاقوں کی سیر کروائی گئی۔ دیگر رشتہ داروں سے بھی ملوائیگئے۔تفصیلات کے مطابق کسی ناخوشگوار واقعات کی بناء پر ضلع باجوڑ سے ہجرت کرنے والوں کی اپنوں سے بچھڑے 220 سال بیت گئے۔ ان سالوں میں ایک دوسری سے بیخبر زندگی بسر کرنے والوں نے اپنوں کو تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کی اور ایک کمیٹی قائم کی جس میں محمد عمر میاں، عمر، عجب خان، محمد خان، حبیب اللہ، باچا خان، احمد حسین، قاری محمد یوسف اور دیگر نے ضلع باجوڑ جاکر تلاش شروع کردی۔ 2 سال مسلسل جہدو جہد کے بعد آخر کار اپنوں سے مل گئے اور اپنی شناخت ظاہر کردی۔ انتہائی خوش اسلوبی سے پرانی باتوں کو بھلا کر تنازعات کو ختم کرنے کے بعد سوات آنے کی دعوت دی۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز سوات پارڑئی کیمقام پر استقبال کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں بھائیوں کی طرح رہنے کا عہد کیا گیا۔ باجوڑ سے آئے ہوئے مہمانوں میاں محسود جان، سید نصیب شاہ، باچا سید اور دیگر نے کہا کہ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ آئندہ کیلئے ہم ایک دوسرے کے ہر قسم دکھ درد میں شریک ہونگے اور آج کے بعد بھائیوں کی طرح رہنے کا وعدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد سید خاندان کی ایک پر وقار تقریب منعقد کرینگے جس میں صوبہ بھر سے سید خاندان کے افراد شریک ہونگے۔