کوہاٹ (مانند نیوز ڈیسک) سے ضلع کرم پاڑہ چنار اور پاک افغان بارڈر گوٸی تک موٹروے کی تعمیر کا مطالبہ دن بدن زور پکڑتے جا رہا ہے اور اب چھوٹے بڑوں کی زبان زد عام ہے کہ ہم بھی پاکستان کے عوام اور رعایا ہیں۔اگر کوٸی وزیراعلیٰ یا دوسرے وزراء اپنے علاقوں خصوصاً سوات اور ایبٹ اباد تک موٹروے تعمیر کرسکتے ہیں تو ہمیں کیوں نہیں دے سکتے۔کسی بھی علاقے کی تعمیر و ترقی پر ہم ناراض نہیں ہیں لیکن ہم بھی آخر اس ملک کے باشندے اور باسی ہیں۔ہم نے بھی اور ہمارے آباواجداء نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ ہم بھی اس ملک کے رعایا ہیں اور اس پر مرمٹنے والے ہیں۔اس سلسلے میں سدہ پریس کلب میں پاک یوتھ مومنٹ کرم کے صدر میرافضل خان طوری جن کے ہمراہ ناٸب صدر محمد عارف بنگش، تیمورخان بنگش صابرحسین طوری،احسان اللہ چمکنی اور دوسرے شامل تھے نے ایک بھرپور پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ زمانہ انگریز کے سوسالہ پرانی دی ہوٸی سڑک پر کوہاٹ پشاور اور اضلاع پایان کے دوسرے علاقوں تک اب سفر کرنا مشکل بلکہ ناممکن بھی ہوچکا ہے۔اگر انگریز نہ ہوتے تو شاید ہم اس پرانے ٹوٹ پھوٹ کے شکار روڈ کے مالک بھی نہ ہوتے۔انہوں اس بات پر انتہاٸی دکھ کا اظہار کیا کہ عرصہ دراز سے درجنوں کے حساب سے یہاں سے مختلف اوقات میں مختلف ایم این ایز، سینیٹرز اور اب ایم پی ایز منتخب ہوکر گزر چکے ہیں لیکن اللہ نے اب تک کسی کو یہ ہمت ہی نہیں دی کہ ایوان بالہ یا ایوان اقتدار میں کسی سے اپنے علاقے کے لیے موٹروے جیسے منصوبے کا مطالبہ تک کرسکیں۔ان سب نے صرف وقت گزاری کی ہے اور اپنی موج مستیاں کیں ہیں۔ وہ تو اسلام اباد یا پشاور سمیت ملک کے ان حصوں میں ہوتے ہیں جہاں انہیں تمام ترآساٸیشیں اور سہولتیں میسر ہیں۔انہیں اپنے عوام اور رعایا کی کیا فکر ہے کہ ان کے غم میں اپنا وزن کم کرسکیں۔انہوں نے ہمیشہ صدر،وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے ہاں میں ہاں ملاکر ”خان خہ واٸی“ کی رٹ میں کسی کو خفہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگر سوات یا ایبٹ اباد کے لیے خوبصورت موٹروے کم وقت میں دے سکتے ہیں یا موجودہ وزیر اعظم پنجاب کے ہر بڑے علاقے کو موٹروے دے سکتے تو ہمیں کیوں نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا اور آخری مطالبہ موٹر وے کی تعمیر کا ہی ہے۔ہم ہر صورت یہی چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت خواہ مرکزی ہو یا صوباٸی کوہاٹ سے لیکر ضلع کرم اور پاک افغان سرحد گوٸی تک سوات اور ایبٹ اباد کے طرز پر موٹروے تعمیر کرنے کے احکامات صادر کریں۔قباٸیلی علاقوں کے نام سالانہ بیلیٸن کے حساب سے پیسوں کی منظوری کے خیالی خوابوں سے بہتر ہے کہ ہمارے اس مطالبے پر فوری توجہ دے اور اپنے پہلے اقدام میں ان کی منظوری دے۔انہوں نے کہا کہ ضلع کرم اپنے جغرافیاٸی اعتبار سے تمام قباٸلی علاقوں میں واحد قباٸلی ضلع ہے جو افغانستان کے کٸی صوبوں کو اپنے زمینی و پہاڑی راستوں سے ایک دوسرے کو ملاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ شمال مغرب میں ضلع خیبر، جنوبی مغرب میں بیک وقت ضلع اورکزٸی اور ضلع ہنگو وکوہاٹ اور جنوب مشرق میں نارتھ وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان تک کے علاقوں کو ساتھ ملاتا ہے جو پورے علاقے میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور تجارت کے اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ان کے وست میں بہنے والا دریاۓ کرم تمام جنوبی اضلاع کو وافر مقدار میں پانی فراہم کرتا ہے جن سے ان کی تمام تر ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم تو ایک عرصے سے سن رہے ہیں اور اب تو واقعی سننے کے حد تک ہی محدود ہوکر رہ گیے ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے زمانے میں ایک لنک روڈ کی منظوری ہوٸی تھی جو تمام قباٸلی باجوڑ سے وزیرستان تک کے علاقے آپس میں ملادیں گے لیکن اب تو یہ خواب ہی ہے یا شاید کاغذات میں یہ بھی تعمیر ہوچکا ہو بلکہ پرانا بھی ہوچکا ہوگا۔لہذا ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا دیا جاۓ بصورت دیگر اس سلسلے میں ہم آخری حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔