چترال (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان کے مشیر  انجنیر امیر مقام نے  ریشن کے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ ریشن ضلع اپر چترال کا نہایت ذر حیز اور خوبصورت علاقہ ہے جو ہر سال سیلاب کی ضد میں آتا ہے۔ پچھلے سال بھی یہاں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے  ضلع اپر چترال کا مین شاہ راہ مکمل طور پر کٹ چکا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لوگوں کے ذرعی زمین اور گھروں میں سے متبادل راستہ بنا تھا۔ اس سال ایک بار پھر گلیشیر پھٹنے سے دریا میں سیلاب آیا تھا اور سڑک کو اسی جگہہ پھر کاٹا جس کے نتیجے میں پچھلے  ہفتے سے ضلع اپر  چترال کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وہاں جانے والے لوگ اپنی گاڑیاں نیچے کھڑی کرکے برساتی نالے میں پیدل  جاکر پہاڑی  پر چڑھتے ہیں جہاں  سے متبادل گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔انجنیر امیر مقام کے آمد پر علاقے کے لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ متاثرین نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ ریشن کو بار بار سیلاب کی تباہی سے بچانے کیلئے دریا کے کنارے حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائے  اور جن لوگوں کے گھر اور زمین  پچھلے سال متبادل سڑک کیلئے  لی گئی تھی  اور ان کو فوری معاوضہ  ادا کیا جائے۔ انہوں نے  یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کی زمین اس  سال متبادل راستے کیلئے لی جائے گی  ان کو پیشگی ادا کی جائے۔انہوں نے نیشنل  ہائی وے اتھارٹی  پر بھی کڑی تنقید  کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے  سال  بھی  سیلاب  نے مین شاہ راہ کو کاٹ دیا تھا  مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔متاثرین نے یہ بھی شکایت کی کہ  پچھلے سال جب سیلاب نے پشاور چترال روڈ کو حتم کیا تھا تو NHA  حکام اور ضلعی انتظامیہ نے متبادل  سڑک کیلئے ان کی ذرعی زمین اور مکانات کو مسمار کرکے راستہ بنایا تھا مگر  ابھی تک زمین کے مالکان  کو ان کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ اس سال جب کہ ایک بار یہ سڑک ٹوٹ چکا ہے تو متبادل راستے کیلئے جو زمین لی جائے گی ان کو پیشگی ادیگی کی جائے۔ اس دوران احسان الحق جان نامی ایک شحص کی لاش کو بھی لوگوں نے پیدل اٹھاکر ایمبولنس تک لایا جس کا؛پچھلے دنوں امریکہ میں انتقال ہوا تھا اس درد ناک منظر نے لوگوں کو اور بھی غمگین کردیا۔ انجنیر امیر مقام نے متاثرہ لوگوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ چترال میں ان کے پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی یا ناظم منتحب  نہیں ہوا ہے  مگر اس کے  باوجود  وہ صوبائی حکومت کے کسی نمائندہ سے  بھی پہلے ریشن پہنچ گئے  کیونکہ وہ چترال کے لوگوں کے ساتھ دلی محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ  متاثرین کو آدھا معاوضہ مرکزی حکومت ادا کرے گی اور بقایا آدھا صوبائی حکومت ادا کرے۔ انہوں نے این ایچ اے کے عملہ پر زور دیا کہ وہ سڑک کی مرمت پر فوری کام شروع کرے۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں  پارٹی اراکین اور علاقے کے لوگ موجود تھے۔ واضح رہے کہ ریشن کے متاثرہ لوگ NHA  اور  حکومتی اداروں سے  مایوس ہوکر آج سے پیدل کا راستہ بلاک کرنے کا بھی اعلان کیا  انہوں نے واضح کیا کہ جب تک این ایچ اے  اس سڑک کی دوبارہ تعمیر پر کام شروع نہ کرے اور ان کو پچھلے سال  سڑک کیلئے لی گئی زمین کا معاوضہ نہ دیا جائے اس وقت تک پیدل کا راستہ بھی لوگوں کیلئے بند رہے گا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے