ڈیرہ اسماعیل خان (مانند نیوز) وائس چانسلرگومل یونیورسٹی ڈاکٹر افتخار احمد کے زیر صدارت ملحقہ ڈگرکالجز کا اجلاس وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخا راحمد کی زیر صدارت ڈگری کالجز میں2+2بی ایس ماڈل کے نفاذ کے مسائل پر مشاورتی میٹنگ کا انعقاد’تمام ممبران کا2+2ماڈل کے بہترین نفاذ پروائس چانسلرکو خراج تحسین پیش ۔وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخا راحمد کی زیر صدارت گومل یونیورسٹی سے تمام ملحقہ ڈگری کالجز میں2+2بی ایس ماڈل کے نفاذ کے مسائل پر مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فضل ہادی ‘ایڈیشنل ڈائریکٹراکیڈمکس، ڈائریکٹوریٹ آف کالجز ،ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور ‘ڈاکٹرعمرا ن اللہ مروت ‘ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس ،ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور،اسد خان کنڈی’ڈپٹی ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس ،ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور،سمیت رجسٹرار گومل یونیورسٹی ، تمام شعبہ جات کے ڈینز ، اعلیٰ انتظامی افسران اور تمام ڈگری کالجز کے پرنسپلز اورکوارڈینیٹرز کی بڑی تعداد شریک تھی جبکہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی پشاور سے ڈاکٹر روبی بلال اور دیگر ممبران میٹنگ میں آن لائن شریک تھے۔ میٹنگ میں وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر افتخار احمد نے شرکاء کو ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کرنے والے طلباء کے یونیورسٹی اوربی ایس کالجز میں پانچویں سمسٹر میں داخلہ دینے کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل ہادی ‘ایڈیشنل ڈائریکٹر کالجز اورڈاکٹرعمرا ن مروت ڈپٹی ڈائریکٹر کیو اے سی نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کے 2+2بی ایس ماڈل کے حوالے سے پیش کی جانی والی کاوشوں کو خوب سراہا۔ انہو ںنے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کی انتھک محنت اور خصوصی دلچسپی سے بی اے /بی ایس سی اور ایسوسی ایٹ ڈگری کے طلباء کا بہت بڑا مسئلہ حل ہو گیا ہے کیونکہ 2+2ماڈل میں ایک بہترین نظام تعلیم پنہاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی تمام یونیورسٹیوں میں تعلیم کا ایک ہی طریقہ کار رائج ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے جس طرح دن رات محنت کرکے 2+2بی ایس ماڈل پیش کیا۔یہ ان کی کامیابی کا ثمر ہے کہ آج ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے چند ترامیم کے بعد اسی نظام تعلیم کو رائج کر دیا ہے جس پر ڈاکٹر افتخار احمد خراج تحسین کے مستحق ہیں۔اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں سمسٹر سسٹم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تدریسی کتب کا مطالعہ ہے جبکہ ہمارے سمسٹر سسٹم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ تدریسی کتب سے دوری اور نوٹس کا کلچر ہے۔ اسلئے تمام ڈگری کالجز کے فیکلٹی ممبران کوچاہئے کہ وہ طلباء کو تدریسی کتب کے مطالعہ کی طرف راغب کریں تاکہ طلباء ترقی یافتہ ممالک کی تحقیق اور جدید علوم سے روشناس ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پرڈاکٹر فضل ہادی ‘ایڈیشنل ڈائریکٹر اکیڈمکس’ ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اورمیڈم شہلا، پرنسپل گورنمنٹ گرلزڈگری کالج نمبر3نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی ۔