اسلام آباد (مانند نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی بات آگے نہ ہی بڑھائیں تو اچھا ہو گا۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق کوئی مسودہ نہیں دیکھا، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مسائل کا حل سیاسی انداز میں ہو، گورننس کے نظام کو ٹھیک کرنا ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ قرضے بالکل بڑھ رہے ہیں اور حکومت کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے معاملے پر ہمارے سامنے کوئی ٹھوس بات نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی ہے اور سیاسی صورتِ حال بھی سنگین ہے، میری نظر میں ایڈمنسٹریٹو یونٹس پر بات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں۔
علاوہ ازیں شیری رحمٰن نے بین الاقوامی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ خطے میں پھیل رہی ہے، چند روز رکتی ہے پھر شروع ہو جاتی ہے، پاکستان میں ہر طبقہ چاہتا ہے کہ ثالثی کا عمل آگے بڑھے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ثالثی کے عمل میں شامل افراد کی امن کی لابی بن جاتی ہے، جنگ کی لابی اگر ہے تو دوسری جانب امن کی لابی بھی ایکٹیو ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا سمجھ رہا تھا کہ ایران جلدی پھسل جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔