مظفرآباد (مانند نیوز ڈیسک) رویت ہلال کمیٹی آف پاکستان کے سابق چیئرمین صدر پاکستان تنظیم المدارس اہلسنت علامہ مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ مودی نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرکے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کم کرنے کی کوشش کی ہے،صرف قراردادیں پاس کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا،وقت آگیا ہے کہ عمل کیا جائے، پوری دیانتدار ی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں ہے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں،،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مشیر اوقاف مذہبی امور حافظ حامد رضا،عتیق احمد کیانی،قاضٰ سہیل احمد،مولانا عبداللہ تورابی بھی تھے،مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مسلمانوں کے آپس کے مذہبی سیاسی اختلافات کا فائدہ اسلام دشمن قوتیں اٹھارہی ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل ہی سارے پتے پھینک تھے،ریاست جموں کشمیر ایک اکائی ہے،لداخ،گلگت بلتستان آزادکشمیر،سرینگر،جموں شامل ہیں،گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانا درست نہیں بلکہ اس اکائی کے حصے بخرے کرنے کے مترادف ہے،سودی نظام کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے حکومت سنجیدہ نہیں ہے،جید علماء کو شامل کرکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے،وفاقی شرعی عدالت کا کوئی موثر کردار موجودنہیں،صرف چند لوگوں کی نوکریاں لگی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اس سال برطانیہ جا کر علماء اور صحافیوں کو دعوت دونگا کہ حقائق جاننے کیلئے مشن تشکیل دیا جائے جو مقبوضہ کشمیر جائے، پاکستان کے معاشی حالات کا ذمہ دار موجودہ اور سابق حکمران ہیں ملک کی معاشی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔