اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سابق وزیر اطلاعات اور رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پارٹی کے جن رہنماؤں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے طلب کیا ہے وہ 12-2011 میں عوامی عہدوں پر فائز نہیں تھے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اسد قیصر، عمران اسمٰعیل، علی زیدی سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کردیے ہیں، ہمارے دفتر کے 4 ملازمین کو بھی ایف آئی اے نے طلب کیا ہے، اس لیے میں آج اس حوالے سے تفصیلات آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔یہ بھی پڑھیں: ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات: ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرلیاان کا کہنا تھا کہ یہ کُل 13 اکاؤنٹس ہیں جن میں ہمارے لوگوں کو موصول ہونے والی کُل رقم 2 کروڑ روپے ہے، مریم اورنگزیب بدقسمتی سے پاکستان کی وزیر اطلاعات بن گئی ہیں ارو بڑھ چڑھ کر ایسی باتیں کر رہی ہیں جیسے ان اکاؤنٹس میں کتنے ارب منتقل ہوگئے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ 2019 میں الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے اصل دستاویزات میں یہ 2 کروڑ روپے ڈکلیئر تھے اور اس کے بعد 23 اکتوبر 2019 کو بھی الیکشن کمیشن کے سامنے یہ 13 اکاؤنٹس ڈکلیئر کیے گئے تھے۔’رانا ثنااللہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں’انہوں نے کہا کہ یہ 2 کروڑ روپے اس لیے منتقل کیے گئے کیونکہ 2012 میں جب فنڈنگ مکمل ہوئی تو 2013 میں الیکشن تھے، ان الیکشنز کے انعقاد کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مختلف دفاتر کو انتظامی معاملات چلانے کے لیے یہ پیسہ منتقل کیا گیا، عارف علوی پی ٹی آئی کراچی کا آفس چلا رہے تھے اس لیے ان کو کراچی میں پیسے بھیجے گئے، زمزمہ میں پی ٹی آئی آفس عمران اسمٰعیل چلا رہے تھے اس لیے ان کو بھی پپیسے بھیجے گئے۔یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں 90 روز سے زائد تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہوگی، فواد چوہدریسابق وزیرا اطلاعات نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ رانا ثنااللہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں، پاکستانی کی 80 فیصد آبادی پر اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے، دو بڑے صوبے مکمل طور پر پی ٹی آئی کے پاس ہیں، رانا ثنااللہ صرف کوہسار کے اسی ایچ او ہیں اس لیے ان کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ ایف آئی اے کس حیثیت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو نوٹس جاری کر رہا ہے، یہ تمام لوگ 12-2011 میں عوامی عہدوں پر فائز نہیں تھے، اس لیے ہم عدالت گئے ہیں، اگر عدالت نے ہمیں کہا کہ آپ نے ایف آئی اے سے تعاون کرنا ہے تو ہم کریں گے۔