ملاکنڈ (نمائندہ مانند) پولیو اجلاس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے نمائندے اور ڈینگی پوکل پرسن میں تلخ کلامی، ڈی ایچ او نے دونوں کو اجلاس سے باہر نکلنے کا حکم دیا، ضلع ملاکنڈمیں ایک لاکھ 38 ہزاروں بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائینگے، اے ڈی سی نے پولیو مہم کو مزاق سمجھنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی اہمکی دے دی، ضلع ملاکنڈ میں پولیو مہم کے حوالے سے خصوصی اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر زمین خان مومند کی سربراہی ڈسٹرکٹ سیکرٹریٹ بٹ خیلہ میں منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر صادق شاہ افریدی، اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر طیب حیات، پرائیوٹ ایجوکیشن نٹ ورک کے صابئی نائب صدر امجد علی شاہ سمیت محکمہ صحت اور دیگر اداروں کے سربراہان و نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں ملاکنڈ میں جاری پولیو مہم سمیت ہیپاٹائٹس، ڈینگی اور دیگر بیماریوں کا جائیزہ لیا گیا، ای پی آئی کوارڈنیٹر ڈاکٹر مراد نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ضلع ملاکنڈمیں 22 اگست سے 26 اگست تک پولیو مہم جاری رہیگی، جس میں پانچ سال کی عمر تک کے ایک لاکھ 38 ہزار بچوں کو قطرے پلائیں جائیں گے، مہم کے کامیابی کے لیے 682 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے جس میں 595 موبائل، 52 فیکسڈاور 35 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہے، اے ڈی سی زمین خان مومند نے محکمہ صحت کی طرف سے فراہم کردہ دستاویزی اعداد و شمار میں غلطیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا کہ محکمہ صحت میں جو سٹاف پولیو مہم کو مزاق سمجھتے ہیں وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ورنہ ان کے سروس کے ساتھ بھی مزاق شروع کرکے ڈی ایچ او اگر ان کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتے تو وہ چیف سیکرٹری کو تحریری شکایات ارسال کریں گے،انہوں نے کہا کہ 1994 سے اب تک پولیو مہم حکومت قرض پر چلارہے ہیں اس مہم کا پیسہ کہیں سے خیرات میں نہیں مل رہا اس لئے ہمیں پولیو کے خلاف سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ قریبی ضلع سوات میں پولیو پازیٹیو کیس آنے کے بعد ضلع ملاکنڈ بھی انتہائی حساس ہوگیا ہے اس لیے ہمیں پولیو کے خلاف چوکس ہونا ہوگا۔